بھارت سے معاہدوں کا الزام بے بنیاد اور سیاسی پروپیگنڈا ہے، بی این پی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے جماعتِ اسلامی کے نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ بی این پی نے بھارت کے ساتھ خفیہ معاہدے کیے ہیں، اور اسے بے بنیاد، گمراہ کن اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیشی انتخابات: بی این پی اتحاد دو نشستوں پر امیدوار سے محروم، جماعت اسلامی کو کوئی بحران درپیش نہیں
وی نیوز کے مطابق ہفتے کے روز گلشن میں پریس بریفنگ کے دوران بی این پی الیکشن اسٹیئرنگ کمیٹی کے ترجمان مہدی امین نے کہا کہ ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بیانات یا تو دانستہ غلط معلومات پھیلانے کی کوشش ہیں یا لاعلمی کا نتیجہ۔
مہدی امین نے کہا کہ بی این پی کی سیاست پارٹی قیادت، خصوصاً طارق رحمان کی سربراہی میں، بنگلہ دیش کی خودمختاری اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بی این پی نے ماضی میں تیستا پانی کی تقسیم اور سرحد پر فیلانی کے قتل جیسے معاملات پر بھارت کے خلاف بھرپور احتجاج کیا تھا۔
انہوں نے اس موقع پر بی این پی کی جانب سے انتخابی رابطے کے لیے ہاٹ لائن 16543 اور واٹس ایپ نمبر 01806977577 کا اعلان بھی کیا، تاکہ ووٹرز سے براہِ راست رابطہ قائم کیا جا سکے۔
بی این پی ترجمان نے عوام کو خبردار کیا کہ کچھ عناصر مجوزہ فیملی کارڈ اور کسان کارڈ کے نام پر رقم طلب کر رہے ہیں، جو دھوکہ دہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بی این پی اقتدار میں آئی تو ایسے تمام کارڈز عوام میں بلا معاوضہ تقسیم کیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بھارت بی این پی جماعت اسلامی بنگلہ دیش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بھارت بی این پی جماعت اسلامی بنگلہ دیش
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔