سانحہ گل پلازہ پر اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کیا جائے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
چیئرمین ایم کیو ایم نے وزیراعظم شہباز شریف کو لکھے گئے خط میں کہا کہ وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر ریسکیو اور ریلیف کے انتظامات اپنے ہاتھ میں لیں تاکہ انسانی اعضا اور قیمتی اشیاء کو محفوظ بنایا جا سکے، اس کے ساتھ ساتھ وفاق کے زیر انتظام ایک "ریلیف اور بحالی فنڈ" قائم کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں اور لواحقین کی مالی معاونت ممکن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وزیر اعظم پاکستان کو خط لکھتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت ایک اعلیٰ سطحی، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے۔ خط میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ واقعے کو سات روز گزر جانے کے باوجود متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں اور کئی خاندان اپنے پیاروں کی لاشیں تک حاصل نہیں کر سکے، جو ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس افسوسناک آتشزدگی کے نتیجے میں 12 ہزار سے زائد خاندان براہِ راست متاثر ہوئے ہیں جبکہ 100 سے زائد قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا۔
چیئرمین ایم کیو ایم نے خط میں واضح طور پر کہا کہ اس سانحے کی براہِ راست ذمہ داری سندھ حکومت، متعلقہ صوبائی محکموں اور بلدیاتی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق میئر کراچی، ایس بی سی اے، کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) اور دیگر منسلک ادارے مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت "سانحہ گل پلازہ انکوائری کمیشن" کے نام سے ایک خودمختار کمیشن قائم کرے جو حقائق سامنے لائے اور ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس کمیشن میں ایف آئی اے، نیب، این ڈی ایم اے، ایم آئی، آئی ایس آئی، اسٹیٹ بینک، نیسپاک اور دیگر پیشہ ور ماہرین کو شامل کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کیا جائے
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ