آئینی ترامیم اندھیرے میں نہیں، عوام کے سامنے ہونی چاہییں، کراچی مسائل کا حل سنجیدہ مشاورت سے نکلے گا: سابق وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
کنوینئر عوام پاکستان پارٹی اور سابق وزیر اعظم نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے بجائے عجلت میں آئینی ترامیم کی بات کی جا رہی ہے، جو نہ جمہوری روایت ہے اور نہ ہی عوامی مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ترمیم سے پہلے عوام کو اعتماد میں لینا، اس کے مقاصد اور اثرات واضح کرنا اور پارلیمانی طریقۂ کار پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ شہر میں موجود خرابیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ یہ کہا جائے کہ ترمیم کر کے کراچی کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے۔ ان کے مطابق اگر آئین میں کسی مقصد کے تحت ترمیم درکار ہو تو وہ رات کے اندھیرے میں نہیں کی جا سکتی بلکہ اسے عوام کے سامنے رکھنا ہوتا ہے کہ ترمیم کیوں کی جا رہی ہے اور اس کے نتائج کیا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم میں بھی بہتری اور اصلاح کی گنجائش موجود ہو سکتی ہے، لیکن ہر ترمیم کا ایک طے شدہ پارلیمانی طریقہ کار ہوتا ہے، جو پاکستان اور دنیا بھر میں رائج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کی تیاری میں دو سے ڈھائی سال لگے تھے، تاہم اس کے باوجود اس میں عجلت کے باعث بعض خرابیاں پیدا ہوئیں۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت بھی مسئلہ یہی ہے کہ نہ پارلیمانی پارٹیوں میں تفصیلی بحث کی جاتی ہے اور نہ ہی اسمبلی میں سنجیدہ غور و خوض ہوتا ہے۔ جب مشاورت، برداشت اور مختلف آرا کو شامل نہیں کیا جاتا تو مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے گل پلازہ سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ متاثرین، شہدا کے لواحقین اور متاثرہ تاجروں کی بات سنے اور ان کے مسائل کا حل تلاش کرے۔ ان کے مطابق یہ حکومت کی بدقسمتی ہے کہ ایسے سانحات کے بعد بھی متاثرہ فریقین کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔
پریس کانفرنس میں سابق وزیر اعظم نے حالیہ قانون سازی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی سے ایسا قانون منظور کیا گیا ہے جس کے تحت عوامی نمائندوں کے اثاثوں کی تفصیلات کو عوام کے سامنے لانے سے روکا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے قانون سازی کے ذریعے اپنے اثاثے عوام سے چھپانا چاہتے ہیں، جو شفافیت اور جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شاہد خاقان عباسی عوام پاکستان پارٹی کراچی پریس کانفرنس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شاہد خاقان عباسی عوام پاکستان پارٹی کراچی پریس کانفرنس
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔