پنجاب میں شارٹ سرکٹ، کرنٹ اور آگ لگنے کے واقعات کے خاتمے کیلئے ماسٹر پلان تیار
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کو بجلی کے لٹکتے اور بے ہنگم تاروں کے باعث ہونے والے شارٹ سرکٹ، کرنٹ لگنے اور آگ کے واقعات سے محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا۔ ماسٹر پلان کے پہلے مرحلے میں دارالحکومت لاہور کو بجلی کی خطرناک اور لٹکتے تاروں سے نجات دلائی جائے گی، بسنت کے موقع پر ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لیے اندرونِ شہر سے بجلی کی قاتل تاروں کے خاتمے کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے بجلی کے تار زمین دوز کرنے کے آپریشن کے دوران متبادل بجلی سپلائی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ شہریوں کو لوڈشیڈنگ کی اذیت سے محفوظ رکھا جا سکے، اس کے ساتھ ساتھ پورے لاہور کو تین زونز میں تقسیم کر کے مرحلہ وار بجلی کی تاریں انڈرگراؤنڈ کرنے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ نئی اور موجودہ ہاؤسنگ سکیموں میں انڈرگراؤنڈ وائرنگ کو لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے، اس منصوبے کی نگرانی کے لیے ایک سٹیئرنگ کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جس میں صوبائی وزیر فیصل کھوکھر، لیسکو، ہاؤسنگ، لوکل گورنمنٹ کے حکام اور انتظامی افسران شامل ہوں گے۔ شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے مستقل سدباب کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہنگامی سیفٹی پلان بھی طلب کر لیا ہے۔ لیسکو حکام کا بریفنگ میں کہنا تھا کہ لاہور میں اس وقت تقریباً 40 ہزار کلومیٹر بجلی کے تار اور 50 ہزار کلومیٹر انٹرنیٹ کیبلز پھیلی ہوئی ہیں۔ مزید برآں، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت کراچی کے گل پلازہ جیسے سانحات سے بچنا چاہتی ہے کیونکہ عوام کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، بارش کے دوران بجلی کی تاریں حادثات کا سبب بن رہی ہیں اور یہ بے ہنگم تاریں نہ صرف دیکھنے میں بدنما ہیں بلکہ انسانی جانوں کے لیے مستقل خطرہ بھی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔