لاہور(نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کو بجلی کے لٹکتے اور بے ہنگم تاروں کے باعث ہونے والے شارٹ سرکٹ، کرنٹ لگنے اور آگ کے واقعات سے محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا۔
ماسٹر پلان کے پہلے مرحلے میں دارالحکومت لاہور کو بجلی کی خطرناک اور لٹکتے تاروں سے نجات دلائی جائے گی، بسنت کے موقع پر ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لیے اندرونِ شہر سے بجلی کی قاتل تاروں کے خاتمے کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے بجلی کے تار زمین دوز کرنے کے آپریشن کے دوران متبادل بجلی سپلائی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ شہریوں کو لوڈشیڈنگ کی اذیت سے محفوظ رکھا جا سکے، اس کے ساتھ ساتھ پورے لاہور کو تین زونز میں تقسیم کر کے مرحلہ وار بجلی کی تاریں انڈرگراؤنڈ کرنے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

نئی اور موجودہ ہاؤسنگ سکیموں میں انڈرگراؤنڈ وائرنگ کو لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے، اس منصوبے کی نگرانی کے لیے ایک سٹیئرنگ کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جس میں صوبائی وزیر فیصل کھوکھر، لیسکو، ہاؤسنگ، لوکل گورنمنٹ کے حکام اور انتظامی افسران شامل ہوں گے۔

شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے مستقل سدباب کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہنگامی سیفٹی پلان بھی طلب کر لیا ہے۔

لیسکو حکام کا بریفنگ میں کہنا تھا کہ لاہور میں اس وقت تقریباً 40 ہزار کلومیٹر بجلی کے تار اور 50 ہزار کلومیٹر انٹرنیٹ کیبلز پھیلی ہوئی ہیں۔

مزید برآں، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت کراچی کے گل پلازہ جیسے سانحات سے بچنا چاہتی ہے کیونکہ عوام کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، بارش کے دوران بجلی کی تاریں حادثات کا سبب بن رہی ہیں اور یہ بے ہنگم تاریں نہ صرف دیکھنے میں بدنما ہیں بلکہ انسانی جانوں کے لیے مستقل خطرہ بھی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بجلی کی کے لیے

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار