چاگوس آئی لینڈز: برطانیہ کا یوٹرن یا ماریشس کی جیت؟ عالمی طاقتیں آمنے سامنے
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اسٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم جزیرہ نماچاگوس آئی لینڈز ہاتھ سے جانے دینے کی صورتحال کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے برطانیہ کی بڑی حماقت قرار دیا گیا جس کےاثرات سامنے آنے لگے ہیں۔برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے چاگوس آئی لینڈز ماریشس کے حوالے کرنے کی ڈیل روک دی۔لیبر حکومت دارالامرا میں اس معاملے کو التوا میں ڈالتے ہوئے بحث سے پیچھے ہٹ گئی ہے،اگر ڈیل ختم کی گئی تو سرکیئر اسٹارمر کا یہ اپنے دور میں15 واں یوٹرن ہوگا۔جزائرنما چاگوس آئی لینڈز بحرہند کےوسط میں ہیں اوریہ ماریشس سے تقریبا 1600کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہیں ، ماریشس انہیں اپنا حصہ تصورکرتاہے۔پیرس معاہدےکےتحت برطانیہ نے1814میں ماریشس سمیت ان جزائر کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔1965میں سردجنگ کےدوران امریکا اور برطانیہ کے درمیان معاہدے کے تحت ماریشس سے چاگوس آئی لینڈزکو علیحدہ کردیا گیا۔ان جزائرپرقبضہ کرکے انہیں برٹش انڈین اوشن خطے کانام دیدیاگیا تھا جبکہ علاقےکی بڑی آبادی کو رفتہ رفتہ نکال کرماریشس میں بسادیا گیا تھا۔یہ اس کے باوجود تھا کہ ماریشس نے1968 میں برطانیہ سے آزادی لے لی تھی تاہم برطانیہ چاگوس آئی لینڈزسے دستبردار نہیں ہوا تھا۔ساتھ ہی 1971 میں امریکا اور برطانیہ نےان جزائر کے علاقے ڈیگوگارشیا میں سوویت یونین کے خلاف فوجی اڈہ بنایا تھاجوبعد میں عراق پر حملوں کیلئے بھی استعمال کیاگیاتھا۔ماریشس ان جزائرکوواپس لینےکی کوشش کرتا رہا ہےاورعالمی عدالت انصاف کابھی برطانیہ سےمطالبہ ہےکہ وہ چاگوس آئی لینڈز جلد ازجلد ماریشس کو واپس کرے۔مئی 2025میں برطانیہ اور ماریشس کے درمیان سمجھوتے کے تحت امریکا اوربرطانیہ کوان جزائر میں سے صرف ڈیگو گارشیا تک رسائی حاصل رہے گی جبکہ باقی تمام جزائر کا قبضہ ماریشس کوواپس دیا جانا ہے۔ڈیگوگارشیا میں فوجی اڈے تک 99برس تک رسائی کی لیز کیلئے بھی برطانیہ کو ہرسال ماریشس کو136ملین ڈالر دینا ہوں گے۔پچھلے کچھ سالوں تک برطانیہ میں لیبراور کنزریٹو دونوں جماعتیں انہیں حوالے کرنا اخلاقی ذمہ داری سمجھتی رہی ہیں۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس ڈیل کوابتدا میں بڑی کامیابی قراردیا تھا مگر اب مؤقف بدل لیا ہے۔صدرٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا تھا کہ وہ حیران ہیں کہ امریکا کا شاندار نیٹو اتحادی برطانیہ ڈیگو گارشیا کا جزیرہ جہاں امریکا کا فوجی اڈہ بھی ہے وہ ماریشس کو دینے کی منصوبہ بندی کررہا ہےاور وہ بھی بلا وجہ۔صدرٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ بلاشبہ چین اور روس نے اس اقدام کو مکمل کمزوری کے طور پر نوٹ کیا ہے ، برطانیہ کا یہ اقدام بڑی حماقت ہے اور یہ اس بات کی بڑی وجہ بھی ہے کہ قومی تحفظ کیلئے امریکا کو گرین لینڈ کیوں حاصل کرنا چاہیے۔اب کنزریٹوپارٹی کے بعض رہنما اسے لفظ حماقت سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں اوران کا مؤقف ہے کہ چین کے اتحادی ماریشس کوخوش کرنےکامنصوبہ یکسر رد کیا جائے۔کنزریٹوز کا دعویٰ ہے کہ حکمراں جماعت لیبرپارٹی کے کئی ارکان بھی اس ڈیل کو قومی مفاد کے منافی سمجھتے ہیں، سرکیئراسٹارمرکو شکست یقینی نظر آرہی تھی اس لیے انہوں نے بل کوووٹنگ کیلئے پیش کرنےسے گریز کیاہے۔تجزیہ کاروں کاخیال ہےکہ برطانیہ کیلئےڈیل پرقائم رہنا یا اس سے گریز میں سے کسی ایک کا انتخاب چیلنج سے کم نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ماریشس کو
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم