برطانوی وزیراعظم کا نیٹو سے متعلق ٹرمپ کے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر نے افغانستان میں نیٹو اور برطانوی افواج کے کردار سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو خطرناک اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے اس پر معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
سر کیئر اسٹارمر نے کہا کہ اگر وہ خود اس نوعیت کا بیان دیتے تو یقیناً معافی مانگتے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکا کا ساتھ دیتے ہوئے جنگ کے دوران 457 برطانوی فوجیوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ نیٹو افواج افغانستان میں فرنٹ لائن سے دور رہیں، حقائق کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کے افغان جنگ سے متعلق بیان پر برطانیہ میں شدید ردعمل کا طوفان
برطانوی وزیرِ اعظم نے صدر ٹرمپ کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا، جبکہ کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈینوک نے بھی اسے ‘فضول بکواس’ کہا۔
ادھر امریکا میں مقیم برطانوی شہزادہ ہیری نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں نیٹو افواج کی قربانیوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔ شہزادہ ہیری کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود افغانستان میں فوجی خدمات انجام دیں، وہاں دوست بنائے اور دوستوں کو کھویا بھی۔ ان کے مطابق بہت سے والدین نے اپنے بیٹے اور بیٹیاں دفن کیں اور کئی بچے والدین کے بغیر رہ گئے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے نیٹو سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیان پر برطانوی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا مؤقف درست ہے اور نیٹو کے لیے امریکا نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا یورپ کو روس کیخلاف مزید سیکیورٹی ضمانت دینے کے قابل نہیں رہا، روسی تجزیہ کار
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا نے نیٹو اتحاد میں دیگر تمام ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ کردار ادا کیا ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے جمعرات کو فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس بات کے بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگر امریکا کو ضرورت پڑی تو نیٹو اس کے ساتھ کھڑا ہوگا یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ افغانستان میں نیٹو افواج محاذِ جنگ سے کچھ پیچھے رہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا برطانیہ نیٹو یورپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا برطانیہ نیٹو یورپ افغانستان میں ٹرمپ کے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔