بھارتی اداکار کمال راشد کو پولیس نے حراست میں لے لیا، وجہ بھی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
متنازع بیانات کے حوالے سے مشہور بالی وڈ اداکار کمال راشد خان کو ممبئی پولیس نے ایک رہائشی عمارت پر فائرنگ کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق فائرنگ کا واقعہ 18 جنوری کو ممبئی کے علاقے اوشیوارا میں واقع نالندہ سوسائٹی میں پیش آیا جہاں ایک عمارت پر فائر کیے گئے۔بھارتی پولیس نے بتایا کہ ایک فائر دوسری منزل کے اپارٹمنٹ سے اور دوسری چوتھی منزل سے برآمد ہوا، یہ اپارٹمنٹ ایک مصنف ڈائریکٹر اور ایک ماڈل کی ملکیت تھا۔پولیس کے مطابق فائرنگ کے الزام میں کمال راشد خان کو حراست میں لیا گیا ہے جہاں دوران تفتیش اداکار نے فائرنگ کرنے کا اعتراف بھی کیا ، جس کے بعد اداکار کے لائسنس یافتہ اسلحے کو حراست میں لے کر تفتیش کی جارہی ہے۔واضح رہے کہ کمال آر خان اس سے قبل بھی اپنے متنازع ٹوئٹس اور بالی ووڈ شخصیات پر تنقید کی وجہ سے کئی بار قانونی مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔