بنگلہ دیش ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر، اسکاٹ لینڈ شامل
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے باہر ہوگیا، آئی سی سی نے اسکاٹ لینڈ کو ورلڈکپ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسکاٹ لینڈ کو بنگلادیش کی جگہ ورلڈکپ میں شامل کیا گیا ہے، اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو ورلڈکپ کے گروپ سی میں رکھا گیا ہے، جس میں نیپال، ویسٹ انڈیز، اٹلی اور انگلینڈ کی ٹیم شامل ہیں۔اس فیصلے کے بعد گروپ سی کے مقابلے مزید دلچسپ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ اسکاٹ لینڈ کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کا ایک اور موقع مل گیا ہے۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی جانب سے آئی سی سی کی تنازع حل کرنےوالی کمیٹی کو کی جانے والی درخواست بھی مسترد کردی گئی، کمیٹی کے مطابق اس معاملے پر ایکشن لینا ان کے درائر اختیار میں نہیں ہے۔بنگلہ دیش نے سیکیورٹی مسائل کے باعث بھارت میں ورلڈکپ میچز کھیلنے سے انکار کیا تھا، بنگلہ دیش اپنے میچز کولکتہ اور ممبئی کے بجائے سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔یاد رہے کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب آئی پی ایل کی ٹیم ‘کولکتہ نائٹ رائیڈرز’ نے بنگلہ دیشی فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کو ٹیم سے فارغ کردیا تھا، جس کے بعد بنگلہ دیشی حکومت نے ملک میں آئی پی ایل کی نشریات پر بھی پابندی لگا دی تھی۔اس فیصلے سے بنگلہ دیش کو تقریباً 27 ملین ڈالرز (325 کروڑ ٹکا) کا بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، آئی سی سی اس معاملے میں "سیاسی مداخلت” کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ فیصلہ حکومت کے دباؤ پر کیا گیا ہے، تو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی رکنیت بھی معطل کی جا سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسکاٹ لینڈ بنگلہ دیش گیا ہے
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔