ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: آئی سی سی کا بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش ٹیم کے بھارت میں کھیلنے سے انکار کے بعد آئی سی سی نے اسکاٹ لینڈ کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں جگہ دے دی ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی سی سی نے چند روز قبل بنگلادیش کرکٹ بورڈ کو 24 گھنٹوں کی مہلت دی تھی، تاہم مقررہ وقت میں معاملات حل نہ ہو سکے اور بالآخر آئی سی سی نے حتمی قدم اٹھا لیا۔
ذرائع کے مطابق آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو نے ہفتہ کی صبح آئی سی سی بورڈ کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ بنگلادیش کے مطالبات آئی سی سی پالیسی کے مطابق نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بنگلادیش آئی سی سی بورڈ کے فیصلے پر عمل درآمد میں ناکام رہا، اسی بنیاد پر اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ خط بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام کو بھی ارسال کیا گیا، جو آئی سی سی بورڈ کے رکن ہیں۔
ساتھ ہی آئی سی سی کی جانب سے کرکٹ اسکاٹ لینڈ کو بھی باضابطہ دعوت نامہ ارسال کیا گیا ہے تاہم کرکٹ اسکاٹ لینڈ کی چیف ایگزیکٹو کا فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکاٹ لینڈ کو یہ موقع ماضی کے آئی سی سی ایونٹس میں کارکردگی اور موجودہ عالمی درجہ بندی (14ویں نمبر) کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔
2024 کے ورلڈ کپ میں اسکاٹ لینڈ گروپ بی میں تیسری پوزیشن پر رہا تھا، جبکہ 2021 میں اسکاٹ لیںڈ نے بنگلادیش کو شکست دے کر سب کو حیران کردیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسکاٹ لینڈ کو
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔