انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش ٹیم کے بھارت میں کھیلنے سے انکار کے بعد آئی سی سی نے اسکاٹ لینڈ کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں جگہ دے دی ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی سی سی نے چند روز قبل بنگلادیش کرکٹ بورڈ کو 24 گھنٹوں کی مہلت دی تھی، تاہم مقررہ وقت میں معاملات حل نہ ہو سکے اور بالآخر آئی سی سی نے حتمی قدم اٹھا لیا۔

ذرائع کے مطابق آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو نے ہفتہ کی صبح آئی سی سی بورڈ کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ بنگلادیش کے مطالبات آئی سی سی پالیسی کے مطابق نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بنگلادیش آئی سی سی بورڈ کے فیصلے پر عمل درآمد میں ناکام رہا، اسی بنیاد پر اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ خط بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام کو بھی ارسال کیا گیا، جو آئی سی سی بورڈ کے رکن ہیں۔

ساتھ ہی آئی سی سی کی جانب سے کرکٹ اسکاٹ لینڈ کو بھی باضابطہ دعوت نامہ ارسال کیا گیا ہے تاہم کرکٹ اسکاٹ لینڈ کی چیف ایگزیکٹو کا فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکاٹ لینڈ کو یہ موقع ماضی کے آئی سی سی ایونٹس میں کارکردگی اور موجودہ عالمی درجہ بندی (14ویں نمبر) کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔

2024 کے ورلڈ کپ میں اسکاٹ لینڈ گروپ بی میں تیسری پوزیشن پر رہا تھا، جبکہ 2021 میں اسکاٹ لیںڈ نے بنگلادیش کو شکست دے کر سب کو حیران کردیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسکاٹ لینڈ کو

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم