فورسز قربانیوں کے دعوے کرتی ہیں، مگر دہشتگردی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے: مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب کے دوران ہونے والے خودکش حملے میں شہید ہونے والے پانچ افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سانحے پر متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
گزشتہ شب اہلِ خانہ سے ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے واقعات صرف ایک تقریب پر حملہ نہیں ہوتے بلکہ پورے معاشرے کے اجتماعی احساسات کو زخمی کر دیتے ہیں اور سوسائٹی کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے اور سرکاری فورسز قیامِ امن کے لیے اپنی قربانیوں اور کوششوں کا ذکر تو بڑے زور و شور سے کرتی ہیں، مگر اس کے باوجود عوام کے دکھوں کا حقیقی ازالہ نظر نہیں آتا۔ ان کے بقول، بدامنی اور تشدد کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ بے پناہ وسائل اور وسیع اختیارات کے باوجود حکومتی رٹ کمزور کیوں ہوتی جا رہی ہے اور گورننس کا بحران دن بدن کیوں گہرا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر ریاست اپنے عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ کیوں نہیں کر پا رہی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سیکیورٹی کے نام پر شہریوں کی نقل و حرکت محدود کرنے اور بنیادی انسانی حقوق سلب کرنے کے باوجود دہشتگردی کا شہر کے دروازے تک پہنچ جانا ایک لمحۂ فکریہ ہے، جس پر سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان
پڑھیں:
سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 24 مئی ٹرین حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کئے، آپریشن کا سلسلہ مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں شروع کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں ہندوستانی پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیسی ساختہ بم بھی برآمد ہوئے، ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گرد کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔