جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی
منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ریڈ لائن اور یلو لائن بی آر ٹی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سی ای او ٹرانس کراچی فواد غفار سومرو، پی ڈی یلو لائن بی آر ٹی ضمیر عباسی اور ایس ایم ٹی اے کے حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے حکام نے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کو کراچی میں مزید نئی ای وی بسز اور ای وی ٹیکسی شروع کرنے سے متعلق آگہی دی۔ سی ای او ٹرانس کراچی نے ریڈ لائن پر جاری کام پر اجلاس کو بریفنگ دی، اجلاس میں بتایا گیا کہ نیپا چورنگی کے پاس ریڈ لائن بی آر ٹی کے دونوں اطراف کام مکمل کرنے جا رہے ہیں۔یلو لائن بی آر ٹی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے اجلاس کو کام میں پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سینیٹر تاج حیدر پل کے دوسرے حصے کو منہدم کرنے کا کام جاری ہے، جلد ہی دوسرے حصے پر بھی کام شروع کیا جائے گا۔شرجیل میمن نے کہا کہ منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں، ریڈ لائن اور یلو لائن بی آر ٹی شہر کے اہم مقامات اور کاروباری مراکز کو آپس میں جوڑنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کام میں کسی بھی تاخیر سے گریز کے لئے فیلڈ لیول پر تمام مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے، جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیر کسی بھی شہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، پنک اسکوٹیز کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کیا جائے، انہوں نے ہدایت دی کہ کراچی کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں میں بھی پنک اسکوٹیز کی تقسیم کے پروگرام منعقد کئے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: یلو لائن بی آر ٹی ریڈ لائن
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔