تیراہ میں آپریشن کا فیصلہ سہیل آفرید ی کی زیرصدارت اجلاس میں ہوا،اپوزیشن لیڈر
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور (خبر ایجنسیاں) خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ نے کہا ہے کہ تیراہ میں آپریشن کا فیصلہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی میں ہوا، صوبائی حکومت بظاہر مخالفت کر رہی ہے۔پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عباداللہ کا کہنا تھاکہ خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی صفر ہے، صوبائی حکومت کی صوبے کے عوام کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں، کرپشن کی بھرمار کے علاوہ یہاں کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں صورتحال بدتر ہوتی جا رہی ہے، صوبائی حکومت نے ابھی تک کیا کیا ہے بتائیں؟ باقی صوبے آگے جا رہے ہیں ہم پیچھے جا رہے ہیں، کرپشن زور و شور سے جاری ہے ، اس صوبے پر رحم کریں، اس کو مزید خراب نہ کریں‘اگر ان کا بس نہیں چلتا تو کرسی چھوڑ دیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جرگہ کے ساتھ ڈی سی نے معاہدہ کیا جو صوبائی حکومت کے ماتحت ہے، آئی جی کی بریفنگ کے مطابق پولیس میں اس آپریشن کی صلاحیت نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صوبائی حکومت
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔