گلگت بلتستان اپیکس کمیٹی کا اجلاس، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں کی صورتحال پر غور
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ گلگت بلتستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور زیر تکمیل ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے مشترکہ طور پر کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس ریٹائرڈ یار محمد کی زیرٍ صدارت گلگت بلتستان اپیکس کمیٹی کا ایک اہم اجلاس اپیکس کمیٹی روم جٹیال گلگت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمانڈر ایف سی این اے، چیف سیکرٹری گلگت بلتستان، ہوم منسٹر، انسپکٹر جنرل پولیس، سیکرٹری داخلہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں، حساس اداروں اور انتظامی امور کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں حالیہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کی فراہمی کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی گئیں۔ دورانٍ اجلاس خطے کے امن و امان، توانائی اور ترقیاتی منصوبوں بشمول موسم سرما میں بجلی کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں دیامر بھاشا ڈیم کی سیکورٹی اور تعمیراتی پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مزید برآں خطےکی تمام زیر تعمیر شاہراہوں کی تکمیل پر جامع گفتگو ہوئی۔ نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ امن و امان قائم رکھنے کے لیے تمام ادارے مل کر کام کریں اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، تاکہ خطے کی ترقی اور استحکام کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
اس موقع پر کمانڈر ایف سی این اے نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز علاقے کے امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امن و امان کی بحالی کے لیے عوامی تعاون انتہائی ضروری ہے۔ اجلاس میں اعلیٰ سول و عسکری حکام سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے مختلف امور پر اپنی تجاویز پیش کیں۔ اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ گلگت بلتستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور زیر تکمیل ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے مشترکہ طور پر کام کیا جائے گا۔ اس موقع پر کمانڈر ایف سی این اے نے خیبر پولو ٹورنامنٹ میں کامیاب GB پولو ٹیم کو بہترین کارکردگی دکھانے پر 10 لاکھ روپے کے انعام سے بھی نوازا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ترقیاتی منصوبوں گلگت بلتستان اجلاس میں
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔