گلگت بلتستان: صحت کے شعبے کے لیے 12 کروڑ 57 لاکھ 70 ہزار روپے جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد خان کی ہدایت پر صوبائی حکومت نے ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کے لیے 12 کروڑ 57 لاکھ 70 ہزار روپے جاری کر دیے ہیں، جن کا مقصد غریب اور مستحق مریضوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت پاکستان کا بڑا فیصلہ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے صحت کارڈ کی میعاد میں 2027 تک توسیع
محکمہ خزانہ نے یہ رقم مختلف غیر ضروری اخراجات میں کٹوتی کے ذریعے فراہم کی، جس سے بجٹ نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے عوامی فلاح کے لیے وسائل مہیا کیے گئے۔ یہ فنڈز گلگت بلتستان بھر میں مستحق مریضوں کے علاج معالجے کے لیے استعمال کیے جائیں گے اور جون 2026 تک دستیاب رہیں گے۔
حکام کے مطابق ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کے تحت مالی معاونت سے ایسے مریضوں کو سہولت ملے گی جو مہنگے علاج کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف صحت کے شعبے میں بہتری آئے گی بلکہ کمزور طبقات کے لیے علاج تک رسائی بھی ممکن ہو سکے گی۔
مزید پڑھیں:گلگت بلتستان زلزلہ: ایک جاں بحق، متعدد زخمی، وادی چپورسن میں 40 مکانات منہدم
یہ فیصلہ نگران حکومتِ گلگت بلتستان کی جانب سے صحت کو ترجیح دینے، مالی نظم و ضبط کے ساتھ عوامی مفاد کو یقینی بنانے اور سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گلگت بلتستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان گلگت بلتستان کے لیے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔