سوست ڈرائی پورٹ: عوامی ریلیف، علاقائی خوشحالی اور قومی ترقی کی جانب اہم پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
گلگت:
سوست ڈرائی پورٹ پر حکومتی اقدامات کے نتیجے میں گلگت بلتستان کے عوام کو سہولیات اور ترقی کے نئے مواقع میسر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
سوست ڈرائی پورٹ سی پیک کا کلیدی تجارتی گیٹ وے ہے، جو پاک چین زمینی تجارت کے لیے مرکزی راستے کی حیثیت رکھتا ہے۔
حکام کے مطابق سوست بندرگاہ گلگت بلتستان سے کراچی تک قومی سپلائی چین اور تجارتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ ڈرائی پورٹ پر بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں سے قومی خزانے کو استحکام حاصل ہو رہا ہے، جہاں گزشتہ سال تقریباً 22 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا گیا، جو ملکی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
گلگت بلتستان کے عوام کے دیرینہ مطالبے پر حکومت نے سوست ڈرائی پورٹ سے آنے والی اشیاء پر سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں تقریباً 4 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا ہے۔ اس عوامی ریلیف کا بنیادی مقصد روزمرہ استعمال کی اشیاء کو سستا کرنا اور عوام کو مالی سہولت فراہم کرنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی ٹیکس ریلیف کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں بلکہ اس کے فوائد قیمتوں میں کمی، مقامی تجارت کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع کی صورت میں عام عوام تک پہنچیں گے۔ سوست ڈرائی پورٹ کی بہتر سہولیات سے مقامی کاروبار کو فروغ ملے گا، جس سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق سوست ڈرائی پورٹ کی مکمل فعالیت معاشی ترقی کی ضامن ہے، تاہم اس امر کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ اس کے ثمرات حقیقی معنوں میں مقامی عوام تک پہنچیں، تاکہ علاقائی خوشحالی کے ساتھ ساتھ قومی ترقی کا عمل بھی مستحکم ہو سکے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سوست ڈرائی پورٹ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔