گل پلازہ کی بھسم شدہ عمارت 90 فیصد تک کلیئر
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
کراچی کی بھسم شدہ عمارت گل پلازہ کو شدت سے جاری سرچ آپریشن کے بعد تقریباً 90 فیصد تک کلیئر کر لیا گیا ہے، تاہم حکام کے مطابق ابھی بھی 10 سے 11 افراد لاپتہ ہیں جن کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ ملبے کے نیچے مزید انسانی باقیات کے امکانات ہیں اور ریسکیو ٹیمیں ہر جگہ محتاط طریقے سے تلاشی میں مصروف ہیں، سرچ آپریشن کے دوران عمارت کے مختلف حصوں سے چار ڈی وی آر بھی برآمد ہوئے ہیں، جو سانحے کی وجوہات کی تحقیقات میں اہم شواہد فراہم کر سکتے ہیں۔
ملبے کی صفائی کے دوران ڈیڑھ کلو سونا اور دکان میں موجود ایک لاکھ روپے سے زائد نقد رقم بھی برآمد ہوئی، جسے متعلقہ دکان کے مالک کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ ملبے کی صفائی اور متاثرہ افراد کے اثاثوں کی بازیابی دونوں عمل ایک ساتھ جاری ہیں۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ طارق نے بتایا کہ اب تک ملبے سے 71 لاشیں اور انسانی باقیات نکالی جا چکی ہیں، تاہم شدید آگ لگنے کی وجہ سے ڈی این اے کے ذریعے شناخت کا عمل پیچیدہ اور وقت طلب ہے، جاں بحق ہونے والے 71 افراد میں سے 20 کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، جبکہ 13 افراد کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی گئی ہے۔ مزید برآں، لاپتہ افراد کی فہرست میں 82 نام شامل ہیں، جن کی تلاش تاحال جاری ہے۔
واقعے نے ایک بار پھر شہر کی حفاظتی انتظامات اور تعمیراتی معیارات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں،تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔
شہری انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امدادی ٹیموں کے کام میں تعاون کریں اور حادثے کے حوالے سے پھیلنے والی افواہوں سے گریز کریں تاکہ انصاف کے عمل کو متاثر نہ کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔