اربوں کی چوری کرنے والا ملزم امریکی قانون میں خلل کیوجہ سے فرار ہونے میں کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
امریکی وفاقی امیگریشن حکام نے ایک ایسے مشتبہ شخص کو امریکا سے ڈی پورٹ کر دیا جو 2022 میں انتہائی قیمتی زیورات کی چوری کے الزام میں ملوث تھا، جس کی مالیت اربوں روپے (تقریباً 100 ملین امریکی ڈالر) بتائی جاتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جیسن نیلون پر الزام تھا کہ وہ 2022 میں برِنکس سیکیورٹی ٹرک سے قیمتی ہیرے، زمرد، سونے، لال موتی اور مہنگے ڈیزائنر کی گھڑیاں چرا کر لے گیا تھا۔ اسے امریکا کی تاریخ کے سب سے بڑے زیورات کی چوری کے کیس میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔
جیسن نیلون سمیت سات افراد پر بینالریاستی اور غیر ملکی شپمنٹ سے چوری کے الزامات کے تحت مقدمات درج تھے اور اگر ثابت ہوتا تو اسے زیادہ سے زیادہ 15 سال قید ہو سکتی تھی۔
تاہم امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے دسمبر 2025 میں جیسن کو رضاکارانہ طور پر امریکا چھوڑنے کی اجازت دی کیونکہ قانون کے مطابق اگر کوئی خود رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو ڈی پورٹ کیلئے پیش کردے تو اسے ڈیپورٹ ہونے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ وفاقی پراسیکیوٹرز کو پہلے اس اقدام کا علم نہیں تھا جس کی وجہ سے انہیں مقدمے کو آگے لے جانے سے قبل قانونی کارروائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
وفاقی پراسیکیوٹرز نے عدالت میں استدلال کیا ہے کہ جیسن کے خلاف مقدمہ ختم ہونا چاہیے تاکہ اسے مستقبل میں واپس لایا جا سکے اور مقدمہ دوبارہ چلایا جا سکے۔
قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ ایسے اہم مقدمے میں مرکزی ملزم کو ڈی پورٹ کرنا غیر معمولی اور غیر متوقع فیصلہ ہے کیونکہ اس سے نہ صرف انصاف میں تاخیر ہوتی ہے بلکہ شواہد اور متاثرین کو بھی انصاف نہیں ملتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔