گل پلازا کا سانحہ سب کے سامنے آگیا، کراچی میں ہزاروں ایسی عمارتیں موجود ہیں: شاہد خاقان عباسی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی (اے پی پی) کے سربراہ شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ گل پلازا کا سانحہ سب کے سامنے آگیا، کراچی میں ہزاروں ایسی عمارتیں موجود ہیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں مزید جو عمارتیں موجود ہیں ان کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہاں پر روایتی انداز میں تفتیش ہوئی، اس سانحہ سے ہمیں سبق سیکھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی تمام ذمے داری ہے، آپ کو اس معاملہ کو طے کرنا ہے اور دیکھنا ہے کہ آئندہ ایسا نہ ہو، واقعے کے بعد حکومت کا ایک ادارہ معاملے کا تجزیہ کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معلوم ہو رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ورثاء کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ صرف قراردادیں پاس کرنے سے معاملات طے نہیں ہوتے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 18ویں ترمیم میں عجلت سے کام لیا گیا تھا، جب آپ سب کی رائے شامل نہیں کرتے تو معاملات حل نہیں ہوتے۔ عوام کے نمائندوں کے گوشواروں تک عوام کو رسائی نہیں، عوام سے اتنا ڈر ہے تو سیاست چھوڑ دیں۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں بات ہوئی ہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کردیا جائے، وفاق کا کام نہیں شہر چلائے، صوبے کو پیسے ملتے ہیں، کراچی کو شکایت رہتی ہے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں، جوکہ صحیح ہے۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کراچی میں سڑکوں اور پانی کا نظام ٹھیک نہیں، کراچی میں پہلے گھروں پر پانی ملتا تھا اب ٹینکرز کے ذریعے ملتا ہے، کونسا ایسا بڑا شہر ہے جہاں پانی ٹینکرز کے ذریعے دیا جاتا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ ہر قسم کا مافیا پانی میں ملوث ہے، معاملات کو بہتر کیا جائے، بجائے اس کے کہ ترمیم سے کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے، اندھیرے میں ترامیم نہیں ہوتیں، عوام کے سامنے رکھنا پڑتا ہے۔ بہت کم ایسے نمائندے ہوں گے جو اپنے اخراجات کو آمدن سے ثابت کر سکیں گے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اخراجات زیادہ اور ٹیکس کم دیتے ہیں، قومی اسمبلی نے قانون پاس کر کے اسپیکر کو اختیارات دیے، جس ملک میں الیکشن چوری ہوتے ہوں وہاں یہی ہوتا ہے جو ہو رہاہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ غزہ پیس بورڈ پر حکومت نے عجلت سے کام لیا ہے، ہماری ہمدردی فلسطین کے ساتھ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کراچی میں نے کہا کہ
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔