دہلی میں قید کشمیری رہنما انجینیئر رشید کو پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت کی اجازت دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
انعام النبی نے کہا کہ پارٹی اسے ایک اہم قدم مانتی ہے کہ بارہمولہ پارلیمانی حلقہ کے لوگ پارلیمنٹ کے اندر ان کی جمہوری آواز سے محروم نہ ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی کی ایک عدالت نے بارہمولہ سے رکن پارلیمنٹ انجینیئر شیخ رشید کو پارلیمنٹ کے آئندہ بجٹ اجلاس میں شرکت کی اجازت دے دی ہے۔ عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) نے اس عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ واضح رہے کہ بجٹ سیشن 28 جنوری سے شروع ہوگا اور ایک وقفے کے ساتھ دو اپریل تک جاری رہے گا۔ بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ 28 جنوری سے 13 فروری تک جاری رہے گا اور اس کے بعد دوسرا مرحلہ 9 مارچ سے 2 اپریل تک جاری رہے گا۔ اے آئی پی کے ترجمان اعلٰی انعام النبی نے ایک بیان جاری کر کے کہا کہ پٹیالہ ہاؤس کورٹ، دہلی کے ایڈیشنل سیشن جج نے آج انجینیئر رشید کو حراستی پیرول پر پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دے دی۔
اے آئی پی کے ترجمان نے کہا کہ سفری اخراجات کا معاملہ معزز ہائی کورٹ میں زیر التوا اپیل کے نتائج سے مشروط رہے گا۔ انجینئر رشید عدالت کی ہدایات کے مطابق زیر حراست رہتے ہوئے پارلیمانی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ انعام النبی نے کہا کہ پارٹی اسے ایک اہم قدم مانتی ہے کہ بارہمولہ پارلیمانی حلقہ کے لوگ پارلیمنٹ کے اندر ان کی جمہوری آواز سے محروم نہ ہوں۔ عدالت میں انجینیئر رشید کی نمائندگی وکھیات اوبرائے، نشیتا گپتا، شیوم پرکاش اور روی نے عدالت میں کی۔ انجینیئر رشید نے 2024ء کے لوک سبھا انتخابات میں بارہمولہ سیٹ پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو دو لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے شکست دی تھی۔ ٹرر فنڈنگ کے ایک معاملے میں سنہ 2019ء سے دہلی کی تہاڑ جیل میں ہیں۔
انہیں دہلی کی ایک عدالت نے 2024ء میں بھی جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوران مہم چلانے اور حلف لینے کے لئے عبوری ضمانت دی تھی۔ اس کے علاوہ نومبر 2025ء میں بھی عدالت نے انجینیئر راشد کو پارلیمنٹ میں شرکت کی اجازت دی تھی۔ اس سے قبل عدالت نے انجینئر رشید کو ستمبر میں ہونے والے نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی تھی۔ عدالت نے راشد کو 24 جولائی سے 4 اگست تک پارلیمنٹ اجلاس میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں شرکت کی اجازت اجلاس میں شرکت پارلیمنٹ کے کی اجازت دی عدالت نے رشید کو رہے گا دی تھی کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند