کانگریس لیڈر نے کہا کہ حکومت ترقی کا دعویٰ کرتی ہے، کچھ صنعتی تنظیموں (جیسے سی آئی ٹی آئی) نے عالمی غیر یقینی صورتحال اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے چیلنجوں کو تسلیم کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھارت کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مودی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ اسے "مردہ معیشت" قرار دیتے ہوئے راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت کی غلط پالیسیوں اور بین الاقوامی تجارتی محاذ پر ناکامی کی وجہ سے یہ تاریخی شعبہ تباہی کے دہانے پر ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ہندوستانی ٹیکسٹائل پر امریکہ کی طرف سے عائد 50 فیصد ٹیرف کا مسئلہ اٹھایا اور اس کا براہ راست ذمہ دار وزیر اعظم نریندر مودی کو ٹھہرایا۔ راہل گاندھی کا استدلال ہے کہ ہندوستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری، جو کبھی عالمی پاور ہاؤس تھی، اپنی چمک کھو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جیسی بڑی منڈیوں میں ہندوستانی برآمدات کو بھاری محصولات کا سامنا ہے جبکہ بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے مسابقتی ممالک کو تجارتی رعایتیں ملتی ہیں۔

راہل گاندھی کے مطابق اس عدم مساوات کی وجہ سے بھارتی صنعت کاروں کو بھاری نقصان ہو رہا ہے اور بہت سی فیکٹریاں بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔ انہوں نے اسے "معاشی بندش" کی علامت قرار دیا اور حکومت سے سوال کیا کہ وہ ہندوستانی بنکروں اور تاجروں کے مفادات کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔ مرکزی ٹیکسٹائل وزیر گری راج سنگھ نے اپوزیشن کے ان الزامات کا سخت جواب دیا ہے۔ انہوں نے "مردہ معیشت" کے بارے میں راہل گاندھی کے بیان کو واضح طور پر مسترد کیا، اسے "قوم کو گمراہ کرنے والا" قرار دیا۔ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ٹیکسٹائل کا شعبہ بحران کا شکار نہیں ہے بلکہ ریکارڈ بلندیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ گری راج سنگھ کے مطابق اپریل سے دسمبر 2025ء کے دوران ہندوستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدات گزشتہ سال 95,000 کروڑ روپئے سے بڑھ کر 1,02,000 کروڑ روپئے تک پہنچ گئیں۔ انہوں نے اپوزیشن پر منفیت پھیلانے کا الزام لگایا۔

راہل گاندھی نے زور دے کر کہا کہ ٹیکسٹائل کا شعبہ زراعت کے بعد ملک میں روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، جو 45 ملین سے زیادہ لوگوں کو براہ راست اور بالواسطہ ذریعہ معاش فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مودی حکومت نے فوری مداخلت نہ کی تو یہ بحران صرف معاشی نقصانات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بڑے پیمانے پر بے روزگاری کا باعث بنے گا۔ حکومت ترقی کا دعویٰ کرتی ہے، کچھ صنعتی تنظیموں (جیسے سی آئی ٹی آئی) نے عالمی غیر یقینی صورتحال اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے چیلنجوں کو تسلیم کیا ہے۔ صنعت کے ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ٹیرف تنازعہ کو حل کرنا ہندوستان کے لئے بہت ضروری ہے۔ حکومت فی الحال پی ایم مترا پارک اور پی ایل آئی اسکیموں کے ذریعے اس شعبے کو جدید بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: راہل گاندھی نے کی وجہ سے انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا