خواجہ آصف نے 18ویں آئینی ترمیم کو ڈھکوسلہ کہنے کی وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کو ڈھکوسلہ کہنے کی وجہ بتادی۔الحمرا ہال لاہور میں تھنک فیسٹ کے دوسرے روز خطاب میں خواجہ آصف نے کہا کہ بلدیاتی نظام مؤثر طریقے سے لاگو کرنے میں ہم لوگ ناکام رہے، اس وجہ سے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا میری سیاسی برادری لوکل گورنمنٹ سے اتنی خائف کیوں ہے، عوام کی فلاح کے لیے بلدیاتی نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات دیے گئے، صوبوں کی سطح پر اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہونے چاہئیں۔اُن کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم میں اہم جز بلدیاتی نظام تھا، جب تک اختیارات کو نچلی سطح تک نہیں لے کر جائیں گے ملک نہیں چلے گا۔خواجہ محمد آصف نے یہ بھی کہا کہ بلدیاتی نظام مؤثر طریقے سے لاگو کرنے میں ہم لوگ ناکام رہے، لوکل گورنمنٹ سےکسی کوکوئی خطرہ نہیں۔
چارے کی فصل میں گھسنے پر زمیندار نے بھینس کی دو ٹانگیں کاٹ دیں
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کے 3 بڑے ڈکیٹروں نے بلدیاتی انتخابات کروائے، موجودہ پارلیمنٹ میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو جنرل ضیاء کی حکومت کے دوران سیاست میں آئے تھے۔وزیر دفاع نے کہا کہ بلدیاتی اداروں سے سب سے بڑا خطرہ بیوروکریسی کو ہوتا ہے، ہمیں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنا ہوں گے، اس سے ٹیکس زیادہ اکٹھا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ صحت، تعلیم، سوشل سیکٹر میں حکومتوں کا عمل دخل کم ہونا چاہیے، دنیا بھر میں بلدیاتی نظام مضبوط بنایا جاتا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سب اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کی قومی مفاد کے فیصلے کرنا چاہئیں، نئےصوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں، بلدیاتی نظام کو نرسری کی طرح لینا چاہیے، نئے صوبے بنائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ساری دنیا نیو یارک کے میئر کو جانتی ہے، حکومت اس کے خلاف تھی، وہ اس کے باوجود جیتا، وہاں سسٹم مضبوط ہے عوام کی رائے کا احترام ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ 18ویں ترمیم میں بلدیاتی نظام اور قومی تعلیمی نصاب کی بات شامل تھی، بعد میں اسے نکالنا پڑا، سیاست دانوں کو سمجھنا ہوگا کہ ہمیں اختیارات نچلی سطح پر دینا ہوں گے، ہمارے سمیت کوئی سیاسی جماعت خوف محسوس نہ کرے، لوکل گورنمنٹ ہمارا تحفظ کرتی ہے۔
چین اب امریکہ کا دشمن نمبر ون نہیں رہا، پینٹاگون نے چین کیلئے خطرے کی سطح کم کردی، اب امریکہ کی پہلی ترجیح کیا ہوگی؟
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بلدیاتی نظام 18ویں ترمیم وزیر دفاع نے کہا کہ نچلی سطح کہ 18ویں
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔