18ویں ترمیم: تنقید کرنیوالوں کا خفیہ ایجنڈا، گل پلازہ پر سیاست جرم: مراد شاہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
کراچی+ اسلام آباد (سٹاف رپورٹر +نوائے وقت رپورٹ) سانحہ گل پلازا کی جاری تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ سرچ اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی اربن سرچ ٹیم نے ملبے سے تین ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈرز برآمد کر لئے۔ ڈی وی آرز کی مدد سے گل پلازہ سانحہ کی وجوہات جاننے میں اہم شواہد ملنے کا امکان ہے۔ ٹیم کو تین ڈی وی آر اور چارجر گل پلازا کی مسجد کے اطراف واقع کمرے سے ملے ہیں۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گل پلازہ سانحے کا سیاسی مقاصد کیلئے استعمال بہت بڑا جرم ہے۔ سندھ اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا نہ کریں کہ لوگوں کی لاشوں پر اپنا خفیہ ایجنڈا شروع کردیں۔ متاثرین کو ایک، ایک کروڑ روپے دیں گے۔ جس کسی کی غفلت ہے اسے سزا ضرور ملے گی۔ ایسے سانحے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بہت بڑے جرم کے مترادف ہے۔ بیجا تنقید کے بجائے اصلاح والی تنقید کریں۔ خفیہ ایجنڈا چلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ کوشش ہو گی گل پلازہ میں دکانیں دو سال میں تعمیر کر لی جائیں۔ دو ماہ میں دکانداروں کے لیے عارضی دکانوں کا بندوبست کر لیں گے۔ ان لوگوں کو صوبہ سندھ ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ایک شخص نے کہا 18 ویں ترمیم سے یہ سب ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پتہ نہیں کہاں سے ایک سانحے کو 18ویں ترمیم سے جوڑ دیا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کے ہر دکان دار کو پہلے مرحلے میں پانچ لاکھ روپے دینے اور گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر کا اعلان کیا ہے۔ سندھ اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ٹوٹل 88 مسنگ لوگ رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے کچھ کی رپیٹیشن ہوئی۔ 82 کا عدد درست تھا، اس وقت تک 67 باڈیز برآمد ہوچکی ہیں اور اب بھی 15 لوگ لاپتا ہیں جبکہ 15 لوگوں کا ڈی این اے ہوچکا ہے اور 52 لوگوں کا ڈی این اے پراسس چل رہا ہے۔ باڈیز کی شناخت کروا کر لواحقین کے حوالے کی جائیں گی۔ صدر کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز رضوان عرفان نے کہا ہے کہ گل پلازہ متاثرین کو دعوت دیتا ہوں میرے پراجیکٹ میں مفت دکان لیں۔ رضوان عرفان نے کہا کہ گل پلازہ متاثرین کی سب کو ملکر مدد کرنا ہوگی۔ گل پلازہ متاثرین سے 6ماہ تک کوئی کرایہ، یوٹیلٹی بلز نہیں لیں گے۔ کراچی کے گل پلازہ کا ملبہ اٹھانے کے دوران جیولر کی دکان سے ڈیڑھ کلو سونا بھی ملا ہے۔ ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کھوسو کے مطابق جہاں سے سونا ملا ملنے والا ڈیڑھ کلو سونا دکان کے مالک کے حوالے کر دیا گیا۔ 90 فیصد بلڈنگ کو کلیئر کر دیا گیا۔ ریسکیو آپریشن اور ملبہ اٹھانے کے عمل کے دوران سنگین غفلت کا مظاہرہ کرنے کا واقعہ سامنے آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گل پلازہ آتشزدگی کا ملبہ لے جانے والے ڈمپر سے انسانی باقیات سڑک پر گر گئیں اور لوگوں نے سڑک پر گرنے والی انسانی باقیات کو سول ہسپتال منتقل کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گل پلازہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔