کراچی:

عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سانحہ گل پلازہ کو حکومت کی ناکامی ہے قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اپنا کام کرے اور وفاقی حکومت اپنا حصہ ڈالے اور جن کا نقصان ہوا ہے ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے جبکہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

گل پلازہ کے دورے اور کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمارا مقصد یہاں پر فوٹوگرافی نہیں تھا، ہمارے لوگ شہید ہوئے ہیں، 1200 دکانیں جلی ہیں، یہ سانحات کیوں ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سانحات کے پیچھے حکومتوں کی نااہلی ہے، حکومت ناکام ہوئی ہے تو یہ سانحہ ہوا ہے، کراچی میں جو دیگر دکانیں اور مارکیٹیں موجود ہیں حکومت ان کے لیے کیا کر رہی ہے، مزید ایسے سانحات نہیں ہوں، حکومت اس کے لیے کیا کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے سانحات میں شناخت کا عمل مشکل ہوتا ہے، حکومت اپنا کردار ادا کرے تاکہ شہدا کی شناخت ہو سکے، ورثاکی بات سنی جائے، ان کی بحالی میں مدد کی جائے،کراچی چیمبر آف کامرس اس پر کام کر رہا ہے، یہ ایک بہتر طریقہ ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ سانحات ہوتے کیوں ہیں؟کراچی میں ہزاروں کثیرالمنزلہ عمارتیں موجود ہیں، سب میں یہی مسائل ہیں، صوبائی حکومت اپنا کام کرے اور وفاقی حکومت اپنا حصہ ڈالے اور جن کا نقصان ہوا ہے ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے، حکومت ایک نظام کے تحت اس معاملے کو حل کرے۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں بات ہوئی ہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کردیا جائے، وفاق کا کام نہیں کہ شہر چلائے، صوبے کو پیسے ملتے ہیں،کراچی کو شکایت رہتی ہے مسائل حل نہیں ہوتے جو کہ صحیح ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شہر میں سڑکوں اور پانی کا نظام ٹھیک نہیں، کراچی میں پہلے گھروں میں پانی ملتا تھا اب ٹینکرز کے ذریعے پانی ملتا ہے،کون سا ایسا بڑا شہر ہے جہاں پانی ٹینکرز کے ذریعے فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پر صوبہ اور وفاق کام نہیں کرتے، ہر قسم کا مافیا یہاں موجود ہے، ان معاملات کو بہتر کیا جائے بجائے اس کے کہ ترمیم کے ذریعے کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ رات کے اندھیروں میں ترامیم نہیں ہوتیں، عوام کے سامنے رکھنا پڑتا ہے، جب آپ آئینی ترمیم میں سب کی رائے شامل نہیں کرتے تو معاملات حل نہیں ہوتے، گل پلازہ کے معاملے پر بھی عوام کی بات سنی جائے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ایک ترمیم میں بات کی گئی کی عوام کے نمائندوں کے گوشواروں کو عوام تک رسائی نہیں دی جائے گی، اس کی منطق سمجھ نہیں آتی، آج آپ ایک قانون کو سیکیورٹی کی آڑ میں چھپا رہے ہیں، عوام سے اتنا ڈر ہے تو سیاست چھوڑ دیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت کم ایسے نمائندے ہوں گے جو اپنے اخراجات کو آمدن سے ثابت کر سکیں، اخراجات زیادہ اور ٹیکس کم دیتے ہیں، قومی اسمبلی نے قانون منظور کر کے اسپیکر کو اختیارات دیے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جس ملک میں الیکشن چوری ہوتے ہوں وہاں یہی ہوتا ہے جو یہاں ہو رہا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ غزہ کونسل آف پیس میں شمولیت کے لیے عجلت سے کام لیا گیا ہے، ہماری ہمدردی فلسطین کے ساتھ ہے، بات ہو رہی ہے کہ اس کا رکن رہنے کے لیے ایک ارب ڈالر دینے پڑیں گے، ہم سب سے پیسے مانگتے ہیں، ایک ارب ڈالر بڑی بات نہیں، ہر پاکستانی 4 ڈالر دے دے تو جمع ہو جائیں گے لیکن کیا ہم اس کی شرائط سے متفق ہیں اس بات سے عوام کو آگاہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کراچی کو وفاق کے حوالے شاہد خاقان عباسی نے انہوں نے کہا کہ حکومت اپنا حل نہیں کے لیے

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم