سردیوں میں توانائی اور طاقت کے لیے مونگ پھلی، گُڑ اور تل
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
سردیوں کا موسم جسم سے اضافی توانائی اور حرارت مانگتا ہے۔ اس دوران اگر خوراک میں کچھ روایتی مگر غذائیت سے بھرپور اجزا شامل کر لیے جائیں تو نہ صرف سردی کا مقابلہ آسان ہو جاتا ہے بلکہ قوتِ مدافعت بھی مضبوط رہتی ہے۔ مونگ پھلی، گُڑ اور تل صدیوں سے دیسی خوراک کا حصہ رہے ہیں اور ماہرینِ غذائیت کے مطابق یہ تینوں سردیوں میں خاص طور پر فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں۔
سردیوں میں جسم کو اضافی توانائی کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟
ٹھنڈے موسم میں جسم کو حرارت برقرار رکھنے کے لیے زیادہ توانائی استعمال کرنی پڑتی ہے۔ اسی طرح قوتِ مدافعت کو بھی مضبوط رکھنا ضروری ہے تاکہ نزلہ، زکام اور دیگر موسمی بیماریوں سے بچا جا سکے۔ ایسے میں وہ غذائیں جو پروٹین، صحت مند چکنائی اور معدنیات سے بھرپور ہوں، سردیوں کے لیے بہترین انتخاب ہوتی ہیں۔
مونگ پھلی: پروٹین اور صحت مند چکنائی کا خزانہ
مونگ پھلی ایک سستی اور عام دستیاب غذا ہے، لیکن اس کے فوائد بے شمار ہیں۔ یہ پروٹین، فائبر، وٹامن ای اور صحت مند فیٹس سے بھرپور ہوتی ہے جو جسم کو دیرپا توانائی فراہم کرتے ہیں۔
مونگ پھلی کھانے سے دل کی صحت بہتر رہتی ہے، بھوک دیر سے لگتی ہے اور جسمانی کمزوری کم ہوتی ہے۔ سردیوں میں بھنی ہوئی مونگ پھلی ایک مزیدار اور طاقت بخش اسنیک بن سکتی ہے، جبکہ اسے چٹنی یا سلاد میں شامل کر کے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
گُڑ: قدرتی مٹھاس اور آئرن کا ذریعہ
گُڑ سفید چینی کے مقابلے میں زیادہ قدرتی اور غذائیت بخش سمجھا جاتا ہے۔ اس میں آئرن، پوٹاشیم اور دیگر معدنیات موجود ہیں جو خون کی کمی سے بچاتے ہیں اور جسمانی توانائی بڑھاتے ہیں۔
سردیوں میں گُڑ کھانے سے جسم کو حرارت ملتی ہے اور نظامِ ہاضمہ بھی بہتر رہتا ہے۔ گُڑ کو مونگ پھلی یا تل کے ساتھ ملا کر مزیدار اور توانائی بخش مٹھائیاں بھی بنائی جا سکتی ہیں۔
تل: ہڈیوں اور جلد کے لیے مفید
تل کے چھوٹے دانے غذائیت کا بڑا خزانہ ہیں۔ ان میں کیلشیم، میگنیشیم، زنک اور صحت مند تیل شامل ہیں جو ہڈیوں کو مضبوط بنانے، جلد کی خشکی کم کرنے اور جسم کو اندر سے گرم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
سردیوں میں تل کے لڈو یا چکی عام ہیں، جبکہ تل کا تیل مالش کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے تاکہ خون کی گردش بہتر ہو۔
ایک ساتھ استعمال کے فوائد
مونگ پھلی، گُڑ اور تل جب ایک ساتھ کھائے جائیں تو ان کے فوائد اور بڑھ جاتے ہیں۔ یہ امتزاج فوری توانائی دیتا ہے، قوتِ مدافعت کو مضبوط کرتا ہے اور سرد موسم میں جسم کو چاق و چوبند رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے دیسی پکوانوں میں یہ تینوں اجزا ملا کر بنائی جانے والی چیزیں، جیسے گجک، چکی اور لڈو، خاص طور پر مقبول ہیں۔
روزمرہ خوراک میں شامل کرنے کے طریقے
یہ غذائیں روزمرہ خوراک میں آسانی سے شامل کی جا سکتی ہیں۔ ناشتے میں تھوڑی سی مونگ پھلی اور گُڑ لیا جا سکتا ہے، جبکہ تل کو دلیے، سلاد یا روٹی پر چھڑک کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ گھر میں تیار کی گئی مونگ پھلی اور تل کی چکی صحت مند میٹھا بن سکتی ہے جو بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
احتیاطی تدابیر
اگرچہ یہ غذائیں صحت بخش ہیں، مگر ذیابیطس کے مریض گُڑ کا استعمال محدود رکھیں اور مونگ پھلی سے الرجی رکھنے والے افراد اسے استعمال نہ کریں۔ اسی طرح زیادہ تل کھانے سے بعض افراد کو معدے کی خرابی ہو سکتی ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔
نتیجہ:
مونگ پھلی، گُڑ اور تل سردیوں میں توانائی، حرارت اور اہم غذائی اجزاء فراہم کرنے والی بہترین غذائیں ہیں۔ معتدل مقدار میں ان کا استعمال نہ صرف سردیوں میں صحت برقرار رکھتا ہے بلکہ مجموعی فٹنس اور قوتِ مدافعت کو بھی بہتر بناتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سردیوں میں مونگ پھلی گ ڑ اور تل کے لیے جسم کو
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔