وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات، جعلی ویزا نیٹ ورکس پر مشترکہ کارروائی پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات، جعلی ویزا نیٹ ورکس پر مشترکہ کارروائی پر اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 24 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی اہم ملاقات ہوئی جس میں پاک امریکہ تعلقات اور باہمی مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور پری امیگریشن کلیرنس نظام کی افادیت پر بات کی گئی جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، خصوصاً پولیس ٹریننگ کے شعبے میں ہر سطح پر اشتراک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، اس موقع پر جعلی و فراڈ ویزا نیٹ ورکس کے خلاف جامع ایس او پیز کے تحت مشترکہ کارروائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکی سفیر سے گفتگو میں کہا کہ ایجنٹ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے اور امریکی تعاون کا خیرمقدم کریں گے، جعلی ویزا نیٹ ورکس کیخلاف کارروائی کی خود نگرانی کر رہا ہوں اور پاسپورٹ کو جدید ٹیکنالوجی سے فول پروف بنایا گیا ہے۔
محسن نقوی نے غیر قانونی امیگریشن کو ایک سنجیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ غیر قانونی طور پر امریکہ جانے والوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے اور حکومت کے موثر اقدامات کے نتیجے میں غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد کمی آئی ہے، جعلی دستاویزات کے نیٹ ورکس میں ملوث عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔
امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اور دونوں ممالک میں باہمی تعاون کے فروغ سے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹرمپ کی 2025 کی ملک بدری مہم، سرکاری دعووں اور آزاد جانچ کے درمیان تضاد ٹرمپ کی 2025 کی ملک بدری مہم، سرکاری دعووں اور آزاد جانچ کے درمیان تضاد مری کی شاہراہوں سے برف صاف، نظام زندگی بحال، پولیس اور سکیورٹی ادارے سیاحوں کی راہنمائی کے لیے ہمہ وقت دستیاب، ڈی پی او... متنازعہ ٹویٹس کیس، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 17 ،17 سال قید کا حکم رومانیہ کی اتحاد کی 167 ویں سالگرہ بیوی کو گھورنا،طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا جرم قرار، پارلیمنٹ نے قانون منظور کرلیا پاکستان اور ملائیشیا کے برادرانہ تعلقات تعلیم کے شعبے میں بھی مستحکم
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ محسن نقوی ویزا نیٹ ورکس امریکی سفیر
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔