امریکی ریاست جارجیا کے شہر لاورینس وِل میں معمولی گھریلو جھگڑا قتل کی ایک ہولناک واردات میں تبدیل ہوگیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق قتل کی اس ہولناک واردات میں کم از کم 4 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جب کہ تین بچوں نے الماری میں چھپ کر اپنی جانیں بچائیں۔

بچوں نے الماری کے اندر بند ہوکر موبائل فون سے پولیس کو کال کی اور چند منٹوں میں ہی پولیس ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔

پولیس نے گھر کی تلاشی کے دوران ایک ملزم کو اسلحہ سمیت گرفتار کرلیا جس کی شناخت 51 سالہ وجے کمار کے نام سے ہوئی۔

وجے کمار سے جھگڑے کے بعد ان کی اہلیہ 43 سالہ مینو ڈوگرا اپنے 3 بچوں کو لے کر رشتہ داروں کے گھر آگئی تھیں جہاں وجے بھی پہنچ گیا۔

اہلیہ کے ساتھ تلخ کلامی اور رشتہ داروں سے جھگڑے کے دوران وجے نے گولی چلادی جس سے ان کی بیوی مینو ڈوگرا اور 3 رشتہ دار مارے گئے۔

فائرنگ کے وقت گھر میں 12، 10 اور 7 سال کے تین بچے بھی موجود تھے جنھوں نے خود کو الماری میں چھپالیا تھا۔

ہلاک ہونے والے تین رشتہ داروں کی شناخت 38 سالہ ہریش چندر، 37 سالہ ندھی چندر اور 33 سالہ گورو کمار کے ناموں سے ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ گھریلو جھگڑے کے دوران شروع ہونے والے جھگڑے کے بعد پیش آیا، مگر اس جھگڑے کا اصل سبب ابھی تک واضح نہیں ہے۔

پولیس نے تینوں بچوں کو ایک رشتہ دار کے حوالے کردیا جب کہ قاتل باپ کو تھانے منتقل کردیا جہاں تفتیش جاری ہے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟