سندھ کی شرحِ خواندگی بڑھنے کے بجائے مزید کم ہوتی جارہی ہے، حلیم عادل شیخ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے کہا کہ ایک کمرے اور ایک استاد پر مشتمل اسکول سندھ میں تعلیم کا ایک المیہ بن چکے ہیں، ناقص انفراسٹرکچر اور سہولیات کی کمی نے ہزاروں بچوں کو اسکول چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے، جبکہ لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے سندھ میں کوئی سنجیدہ اور مؤثر حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔ اسلام ٹائمز۔ تعلیم کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان تحریکِ انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے سندھ کی تشویشناک تعلیمی صورتحال پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں آج بھی 78 لاکھ سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں، جو پیپلز پارٹی کی بدترین ناکامی اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 17 سالہ مسلسل حکمرانی کے باوجود پیپلز پارٹی سندھ کے بچوں کو ان کا آئینی حق، یعنی تعلیم، فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ جہاں ملک کے دیگر صوبوں، خصوصا پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 2008ء کے بعد تعلیمی شعبے میں بہتری اور شرحِ خواندگی میں اضافہ ہوا، وہیں سندھ واحد صوبہ ہے جہاں صورتحال مزید ابتر ہوگئی ہے، سندھ میں شرحِ خواندگی کا قومی اوسط سے کم ہونا پیپلز پارٹی کے دعوں پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے ہزاروں سرکاری اسکول آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، صوبے کے 46 فیصد اسکولوں میں واش رومز تک موجود نہیں جبکہ 70 فیصد سے زائد اسکول ایسے ہیں جہاں پینے کا صاف پانی، بجلی اور چار دیواری جیسی بنیادی سہولتیں ناپید ہیں، 85 فیصد سے زائد اسکولوں میں کھیل کے میدان موجود نہیں، جو بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے کہا کہ ایک کمرے اور ایک استاد پر مشتمل اسکول سندھ میں تعلیم کا ایک المیہ بن چکے ہیں، ناقص انفراسٹرکچر اور سہولیات کی کمی نے ہزاروں بچوں کو اسکول چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے، جبکہ لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے سندھ میں کوئی سنجیدہ اور مؤثر حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔ حلیم عادل شیخ نے سوال اٹھایا کہ اربوں روپے کے تعلیمی بجٹ کے باوجود نتائج صفر کیوں ہیں اور یہ پیسہ آخر کہاں جا رہا ہے؟ 12 ہزار سے زائد گھوسٹ اسکول بھی سندھ میں پائے جاتے ہیں جو وڈیروں کی اوطاقیں بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں تعلیم کا معیار مسلسل گرتا جا رہا ہے اور صوبائی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جس کے باعث سندھ کا مستقبل دانستہ طور پر تاریک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تعلیم کو محض نعروں تک محدود کر دیا ہے، عملی اقدامات صفر ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کے بغیر کسی بھی قوم کی ترقی ممکن نہیں، سندھ کو اس نااہل حکومت سے نجات دلانا ناگزیر ہو چکا ہے، تحریکِ انصاف تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنائے گی اور ہر بچے کو اسکول تک پہنچایا جائے گا، کیونکہ سندھ کے بچوں کا حق تعلیم ہے، کوئی خیرات نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ حلیم عادل شیخ پیپلز پارٹی تعلیم کے سندھ کے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔