پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم: ڈی پی ایم عرشاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
دبئی: پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری، تجارتی تعلقات اور مشترکہ منصوبوں کے نئے مواقع کھولنے کے لیے بھرپور تعاون کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ بات انہوں نے دبئی میں محکمہ مالیات، ابو ظہبی کے چیئرمین جاسم محمد بوعتابہ الزعابی سے ملاقات کے دوران کہی۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے پاکستان میں یو اے ای کی سرمایہ کاری بڑھانے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا اور تجارتی و اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے اور گہرا کرنے کے طریقوں پر غور کیا، تاکہ باہمی خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔
دونوں ممالک نے طے کیا کہ زیر التوا امور کو جلد حل کرنے اور اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے کے لیے مشترکہ اقدامات اٹھائے جائیں گے، جو ان کے particular قیادتوں کی رہنمائی کے مطابق ہوں۔
اس موقع پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں اور آپریشنز سے متعلق طویل المدتی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے زیر التوا مسائل کے فوری حل پر زور دیا۔
ملاقات میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی بھائی چارے، دوستی اور باہمی تعاون کے مضبوط تعلقات کو بھی اجاگر کیا گیا، جو دو طرفہ تعلقات کی بنیاد کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔