ترکیہ: خاتون کا ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ہونے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
امریکا کے 47ویں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق ایک غیر معمولی دعویٰ ترکیہ سے سامنے آیا ہے، جہاں ایک خاتون نے خود کو ان کی حیاتیاتی بیٹی قرار دیتے ہوئے ڈی این اے ٹیسٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق 55 سالہ نیجلا عثمان کا کہنا ہے کہ وہ اس یقین کے ساتھ سامنے آئی ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ان کے بائیولوجیکل والد ہیں۔ ان کے مطابق وہ کسی قسم کی قانونی یا سیاسی پیچیدگی پیدا نہیں کرنا چاہتیں بلکہ صرف سچ جاننا ان کا مقصد ہے۔
ترکیہ کے معروف اخبار حریت کو دیے گئے انٹرویو میں نیجلا عثمان نے کہا کہ انہیں صرف ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے امریکی صدر کے سیمپل کی ضرورت ہے تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ بات کرنے پر آمادہ ہوں تو وہ خوشی سے ٹیسٹ کے ذریعے یہ بات ثابت کر سکتی ہیں۔
نیجلا کے مطابق وہ ٹرمپ کے بارے میں یہ تاثر رکھتی ہیں کہ وہ ایک اچھے باپ ثابت ہو سکتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ امریکی صدر انہیں نظرانداز نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی تنازعے کی نہیں بلکہ محض اپنی شناخت کی تلاش میں ہیں۔
تاحال ڈونلڈ ٹرمپ یا ان کے ترجمان کی جانب سے اس دعوے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔