Daily Mumtaz:
2026-06-03@00:05:09 GMT

امریکا نے نیٹو سے متعلق بیان پر برطانوی تنقید مسترد کر دی

اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT

امریکا نے نیٹو سے متعلق بیان پر برطانوی تنقید مسترد کر دی

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے نیٹو سے متعلق بیان پر برطانیہ کی جانب سے امریکا پر کی جانے والی تنقید کو مسترد کر دیا۔
وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ درست کہتے ہیں، نیٹو کیلئے امریکا نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں، امریکا نے نیٹو کیلئے دیگر ممالک سے زیادہ کردار ادا کیا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں نیٹو کے اتحادی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران نیٹو کے غیر امریکی فوجی محاذِ جنگ سے کچھ پیچھے رہے اور وہ فرنٹ لائن پر نہیں تھے۔

امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر سٹارمر نے افغانستان میں برطانیہ سمیت نیٹو کے کردار پر امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کو مضحکہ خیز، خطرناک اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔

کنزرویٹو لیڈر کیمی بیڈینوک نے بھی امریکی صدر کے بیان کو’’فضول بکواس‘‘ قرار دیا، جبکہ امریکا میں مقیم برطانیہ کے شہزادہ ہیری کا بھی کہنا تھا کہ افغانستان میں دی گئی نیٹو افواج کی قربانیوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: امریکی صدر

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان