اسرائیل و امریکہ کیساتھ سمجھوتہ ظلم کو دوام دینے کا مترادف، جمعیت طلباء
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اپنے بیان میں جمعیت طلباء اسلام کوئٹہ نے کہا کہ جب تک غزہ کا ظالمانہ محاصرہ ختم، فلسطینی عوام کو حق آزادی و خودمختاری نہیں ملتا، ایسے تمام معاہدے محض فریب ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت طلباء اسلام ضلع کوئٹہ نے امریکی صدر ٹرمپ کے "بورڈ آف پیس" کو سازش، اور امریکہ و اسرائیل کو ہی فساد کی جڑ قرار دیتے ہوئے نام نہاد امن بورڈ کو مسترد کیا ہے۔ جے ٹی آئی کوئٹہ کے صدر حافظ حبیب الرحمٰن، جنرل سیکرٹری حافظ عابد اللّٰہ حنفی و دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ تنظیم غزہ کے حوالے سے ہونے والے نام نہاد امن معاہدے کو مسترد کرتی ہے اور اسے مظلوم فلسطینی عوام کی قربانیوں مزاحمت اور شہداء کے خون سے ناانصافی قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے معصوم بچوں، خواتین اور نہتے شہریوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے ہو، اس کے ساتھ امن کے نام پر سمجھوتہ دراصل ظلم کو دوام دینے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمعیت طلباء اسلام کے مقاصد میں ظالم سے بغاوت اور مظلوم کی حمایت شامل ہے۔ اس لئے ایسے کسی معاہدے کو قبول نہیں کیا جا سکتا جو فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرے یا صہیونی جارحیت کو سیاسی تحفظ فراہم کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک غزہ کا ظالمانہ محاصرہ ختم جارحیت بند اور فلسطینی عوام کو ان کا جائز حق آزادی و خودمختاری نہیں ملتا، ایسے تمام معاہدے محض فریب ہیں۔ جے ٹی آئی نے واضح کیا کہ وہ غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور طلباء و نوجوانوں کو ظلم کے خلاف شعور مزاحمت اور حق کی حمایت کے لئے منظم کرتی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جمعیت طلباء
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔