ٹی20 ورلڈ کپ معاملہ: پاکستان کو بنگلادیش کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، رانا ثناء اللّٰہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ۔فوٹو: فائل
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ سے متعلق معاملے میں پاکستان کو بنگلادیش کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں رانا ثناء اللّٰہ سے آئی سی سی کے ٹی 20 ورلڈ کپ2026ء میں بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کی شمولیت کے سے متعلق سوال پوچھا گیا۔
چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سینیٹر محسن نقوی نے کہا ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلیں گے یا نہیں، فیصلہ حکومت کرے گی۔
انہوں نے جواب دیا کہ پاکستان کےلیے مستقبل کا فائدہ اسی بات میں ہے کہ وہ بنگلادیش کے ساتھ کھڑا ہو، حقیقت ہے کہ کرکٹ میں ہمارا نقصان ہوگا، ہمیں پیسے بھی کم ملیں گے۔
سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے مزید کہا کہ پاکستان کے بنگلادیش کا ساتھ دینے کے دور رس اثرات ہوں گے، ممکن ہے کہ دونوں ممالک بہترین تعلقات ہوں اور ہم دو بھائیوں کی طرف ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم بنگلادیش کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، بھارت ہم دونوں کا دشمن ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو ٹی 20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے یا نہیں، اس معاملے پر تفصیلی گفتگو اور تمام امور کے جائزے کے بعد ہی کوئی فیصلہ ممکن ہے۔
بنگلادیش کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، محسن نقویلاہور میں میڈیا سے گفتگو میں محسن نقوی نے کہا تھا کہ بنگلادیش کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، ایک ملک کسی کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ جیسا فیصلہ پاک بھارت معاملے کا ہوا، ویسا ہی بنگلا دیش کے ساتھ ہونا چاہیے، بنگلا دیش برابر کا ملک ہے، اگر بھارت کو فیور دیا گیا تو بنگلا دیش کو بھی ملنا چاہیے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ڈکٹیشن ہوئی تو پھر پاکستان کا بھی ایک مؤقف ہے اور ہم اپنے مؤقف پر قائم رہیں گے، پہلے حکومت فیصلہ بتا دے، پھر پلان اے، بی اور سی سب تیار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بنگلادیش کے ساتھ رانا ثناء الل ٹی 20 ورلڈ کپ کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس دوران دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات
مزید :