لاہور میں 6 فروری کو مقامی تعطیل کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
لاہور میں 6 فروری کو بسنت کے موقع پر مقامی تعطیل کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی تجویز پر حکومت پنجاب نے اس دن کو تعطیل کے طور پر مقرر کرنے کی منظوری دی ہے تاکہ شہری بسنت کی تقریبات میں حصہ لے سکیں۔
ذرائع کے مطابق 6 فروری کو لاہور میں مقامی تعطیل بسنت کی وجہ سے دی جائے گی۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ نے 5 فروری کو چھٹی رکھنے کی تجویز دی تھی، جس کے پیش نظر پنجاب حکومت نے 6 فروری کو تعطیل کا اعلان کیا ہے۔
ڈی سی لاہور نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ 18 سال سے کم عمر بچے اہلخانہ کے ساتھ مل کر بسنت منا سکتے ہیں، تاکہ روایتی جشن میں تحفظ اور نظم و ضبط برقرار رہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ محکمے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ شہری امن و امان کے ساتھ بسنت کی تقریبات میں حصہ لے سکیں۔
واضح رہے کہ پولیس نے لاہور کو ریڈ، یلو اور گرین زون میں تقسیم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حساس اور گنجان آباد علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے جہاں سخت ترین پابندیاں نافذ ہوں گی، جبکہ نسبتاً کم خطرناک علاقوں کو یلو اور محفوظ علاقوں کو گرین زون میں شامل کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بسنت کے دوران نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی جس میں ڈرون کیمروں، سوشل میڈیا مانیٹرنگ اور خصوصی کنٹرول رومز کے ذریعے شہر بھر پر نظر رکھی جائے گی۔ چھتوں پر شراب نوشی، ہوائی فائرنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔