بنگلہ دیش کو ایونٹ سے باہر کرنے کے بعد ٹی20 ورلڈ کپ کا نیا شیڈول جاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی20 ورلڈ کپ کے نئے شیڈول کا اعلان کردیا ہے، جس میں اسکاٹ لینڈ کے تمام میچز کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔
نئے شیڈول کے مطابق اسکاٹ لینڈ اپنا افتتاحی میچ 7 فروری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گا، جبکہ دوسرا میچ 9 فروری کو اٹلی کے ساتھ ہوگا۔
آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ یہ میچز طے شدہ پروگرام کے مطابق مختلف اسٹیڈیمز میں منعقد ہوں گے۔
آئی سی سی کے مطابق اس شیڈول سے اسکاٹ لینڈ کے شائقین کو اپنی ٹیم کے میچز دیکھنے اور حمایت کرنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کرنے میں سہولت ملے گی۔
نیا شیڈول عالمی کرکٹ شائقین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، اور تمام میچز کی تاریخ و وقت کی تفصیلات آئی سی سی کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہیں۔ اس کے بعد ٹیمیں اپنی تیاریوں اور میچ حکمتِ عملی کو حتمی شکل دیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ شیڈول کا اعلان میچز تفصیلات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹی20 ورلڈ کپ شیڈول کا اعلان میچز تفصیلات وی نیوز
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔