پنجاب؛ نجی سطح پر رکھے گئے جنگلی جانور شہریوں کیلئے خطرہ، 29 شیر اور ٹائیگرزبرآمد
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
لاہور:
پنجاب میں نجی سطح پر رکھے گئے خطرناک جنگلی جانوروں کے باعث عوامی تحفظ کو لاحق خطرات ایک بار پھر سامنے آ گئے ہیں، لاہور ہی میں پالتو شیر کے حملے سے 8 سالہ بچہ شدید زخمی ہو گیا جبکہ واقعات نے صوبے میں نجی وائلڈ لائف بریڈنگ فارمز کی نگرانی اور حفاظتی انتظامات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں تاہم 29 شیر اور ٹائیگرز برآمد کرلیا گیا ہے۔
وائلڈلائف رینجرز نے لاہور اور ملتان میں کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 29 شیر اور ٹائیگر برآمد کر لیے ہیں، حکام کے مطابق نجی وائلڈ لائف بریڈنگ فارمز کو شیروں اور دیگر جنگلی جانوروں کی رہائش کے لیے محکمے کے مقررہ معیار کے مطابق پنجرے بنانے کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے۔
اس ضمن میں بتایا گیا کہ وائلڈلائف رینجرز نے لاہور میں بیدیاں روڈ پر واقع ایک فارم ہاؤس پر کارروائی کے دوران 20 سے زائد شیر اور ٹائیگر برآمد کیے۔
وائلڈلائف حکام کے مطابق ملزم فیاض عرف فیضی اور اس کے تین ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ایڈیشنل چیف وائلڈلائف رینجر سینٹرل پنجاب مدثر حسن نے بتایا کہ برآمد کیے گئے تمام جانوروں کو تحویل میں لے کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے اور کارروائیاں قوانین کے مطابق جاری ہیں۔
ادھر ملتان میں عسکری بائی پاس کے قریب واقع ایک فارم ہاؤس پر کارروائی کی گئی، جہاں سے 9 شیر اور ایک بندر برآمد کر لیا گیا، وائلڈلائف رینجرز کے مطابق مذکورہ بریڈنگ فارم محکمے کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔
حکام نے بتایا کہ ملزم وقاص کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ یہ کریک ڈاؤن اس وقت شروع کیا گیا جب لاہور کے علاقے سبزہ زار میں پالتو شیر کے حملے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا جہاں 8 سالہ بچہ شیروں کے قریب چلا گیا اور شیر نے اس پر حملہ کر دیا، مذکورہ واقعہ میاں عمر ڈولا بریڈنگ فارم میں پیش آیا، جو عمر اقبال اور علی اقبال کی ملکیت ہے۔
وائلڈلائف رینجرز کے مطابق اس بریڈنگ فارم کو ڈیکلیئر کیا گیا تھا اور مالکان کو شیروں کی رہائش گاہیں اور پنجرے بہتر بنانے کی ہدایت دی گئی تھی جبکہ فائنل انسپکشن کے بعد رجسٹریشن ہونا تھی۔
حکام کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے بچے واجد علی کو تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے جان بچانے کے لیے اس کا بازو کاٹ کر الگ کیا بعد ازاں بچے کو مزید علاج کے لیے گنگا رام اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بریڈنگ فارم کے مالکان کو گرفتار کر لیا اور ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
چیف وائلڈلائف رینجر پنجاب مبین الہٰی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی چیف وائلڈلائف رینجر لاہور کو فوری کارروائی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل لاہور کے علاقے بھیکے وال موڑ میں بھی شیرنی کے حملے سے ایک بچی زخمی ہوئی تھی، جس کے بعد صوبے میں نجی سطح پر رکھے گئے خطرناک جنگلی جانوروں اور ان کی نگرانی کے نظام پر خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وائلڈلائف رینجرز بریڈنگ فارم کے مطابق شیر اور کیا گیا لیا گیا گیا ہے کے لیے کر لیا
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔