شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو پرسکون موت دینے کی منظوری دے دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی (سی ڈبلیو ایم سی) نے پنجاب کے سرکاری چڑیا گھروں میں موجود شدید بیمار اور لاعلاج شیروں کو پرسکون موت دینے کے فیصلے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ منظوری لاہور چڑیا گھر میں منعقد ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی۔ اجلاس کی صدارت چیف وائلڈلائف رینجر پنجاب مبین الٰہی نے کی جبکہ کمیٹی کے دیگر ارکان بھی شریک تھے۔
اجلاس کے دوران سرکاری چڑیا گھروں میں موجود ان شیروں کی تفصیلات پیش کی گئیں جو طویل عرصے سے بیماری میں مبتلا ہیں اور جن کا علاج ممکن نہیں رہا۔ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے مبین الٰہی نے بتایا کہ قانون کے تحت نہ صرف بگ کیٹس بلکہ ایسے تمام جنگلی جانور، جو انسانوں یا دیگر جانوروں کے لیے ممکنہ خطرہ ہوں یا شدید تکلیف میں مبتلا ہوں، کو طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق پرسکون موت دی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل کے لیے واضح قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر عملی اقدام سے قبل کیپٹو وائلڈلائف مینجمنٹ کمیٹی سے باضابطہ منظوری حاصل کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ جانوروں کی فلاح و بہبود اور انسانی ذمہ داری کے اصولوں کے تحت کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 10 شدید بیمار شیروں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سے سات بہاولپور چڑیا گھر، تین لاہور سفاری زو اور ایک لاہور چڑیا گھر میں موجود ہے۔ حکام کے مطابق پرسکون موت کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔
وائلڈلائف حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد جانوروں کو طویل تکلیف سے نجات دلانا اور چڑیا گھروں میں جگہ پیدا کرنا ہے۔ حکام کے مطابق اس فیصلے کے ذریعے یہ واضح پیغام بھی دیا گیا ہے کہ شیر جنگلی جانور ہیں اور انہیں پالتو جانور کے طور پر نہیں رکھا جا سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پرسکون موت کے مطابق
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔