ملک میں سالانہ 4سے 5 ہزار ارب کی کرپشن کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
لاہور : اثاثے چھپانے کے نِت نئے طریقے دریافت، جس ملک میں سالانہ 4سے 5 ہزار ارب کی کرپشن ہوتی ہو، وہاں اَب سیاستدان قانوناً اپنے اثاثے عوام سے چھپا سکیں گے۔
اراکین پارلیمنٹ کے اثاثے چھپانے سے متعلق حکومت کی نئی قانون سازی پر مصطفی نواز کھو کھر کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جس ملک میں سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب کی کرپشن ہوتی ہو، وہاں اَب سیاستدان قانوناً اپنے اثاثے عوام سے چھپا سکیں گے۔
جہاں ضرورت اِس بات کی ہے کہ جس شخص کو بھی ٹیکس گزاروں کے پیسے سے تنخواہ ملتی ہو، یا وہ ٹیکس گزاروں کے پیسے خرچ کرنے پر دسترس رکھتا ہو، وہ شفافیت کی خاطر اپنے اثاثے منظرِ عام پر لائے، وہاں چھپانے کے نِت نئے طریقے دریافت ہو رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 21 جنوری 2026 کو قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2025ءکی کثرت رائے سے منظوری دیدی۔
پیپلزپارٹی کی رکن شازیہ مری نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
ترمیم کے تحت ا سپیکر اور چیئرمین سینیٹ ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے مشتہر نہ کرنے کی رولنگ دے سکیں گے۔ اثاثے مخفی رکھنے کےلیے متعلقہ رکن کو باقاعدہ درخواست دینا ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
حکومت نے قرضوں پر مارک اپ کی شرح 11.89 فیصد سالانہ مقرر کردی
اسلام آباد:حکومت نے مالی سال 2025-26ء کے لیے ترقیاتی قرضوں پر مارک اپ کی حتمی شرح 11.89 فیصد سالانہ مقرر کردی۔
وزارت خزانہ نے اس حوالے سے نوٹی فکیشن جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2023-24ء میں مارک اپ کی شرح 17.84 فیصد جبکہ 2024-25 میں 17.74 فیصد رہی۔
نوٹی فکیشن کے مطابق صوبائی حکومتوں، مقامی حکومتوں، مالیاتی و غیر مالیاتی اداروں اور دیگر کارپوریشنوں کے ترقیاتی قرضوں پر 11.89 فیصد سالانہ مارک اپ لاگو ہوگا، وفاقی حکومت کے کمرشل محکموں کے کیپیٹل آؤٹ لیز پر بھی مالی سال 2025-26 کے لیے 11.89 فیصد سالانہ مارک اپ مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح گاڑی اور گھر کی تعمیر کے لیے قرضوں اور ایڈوانسز پر بھی مالی سال 2025-26 کے دوران 11.89 فیصد سالانہ مارک اپ وصول کیا جائے گا۔