ایران کی تقسیم اور رجیم چینج منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: ایران کے ٹوٹنے اور اسکی تقسیم کا منصوبہ محض ایک خطرے سے زیادہ اہم ہے۔ یہ ایرانی قوم کی سیاسی پختگی کو جانچنے کا امتحان ہے۔ مغرب نے ایران کی تقسیم کے لئے سرمایہ کاری کی ہے، لیکن ایرانی معاشرے نے اتحاد میں سرمایہ کاری کی ہے۔ جب تک اس اجتماعی شعور کو برقرار رکھا جائے گا اور عوام کے جائز مطالبات کو جیو پولیٹیکل گیمز کا آلہ کار نہیں بننے دیا جائے گا، تب تک تقسیم کا فارمولہ چاہے اسے واشنگٹن اور تل ابیب کے تھنک ٹینکس میں کتنا ہی دہرایا جائے، نہ تو حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے اور نہ ہی حقیقت کے میدان میں عملی جامہ پہن سکتا ہے۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی
حالیہ کچھ عرصے میں، "ایران کی تقسیم اور بٹوارے" کا مسئلہ ایک معمولی قیاس آرائی سے بڑھ کر مغربی خارجہ پالیسی میں ایک قابل شناخت محور میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اس حوالے سے مختلف تجزیہ کار بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں۔ امریکی اور مغربی تجزیہ کار جھوٹ پر مبنی خبروں کو بنیاد بنا کر خیالی پلاؤ پکا رہے ہیں۔ امریکہ میں جارحانہ حقیقت پسندی کے مکتب کے ایک ممتاز نظریہ پرداز جان میئر شیمر کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ ایران صرف ایک علاقائی کھلاڑی نہیں، بلکہ مغربی ایشیا میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے مطلوبہ منصوبے کی راہ میں ایک بنیادی رکاوٹ ہے۔ اگرچہ میئر شیمر واضح طور پر ایران کے ٹوٹنے کا کوئی انتظامی ورژن نہیں بتاتے، لیکن ان کا ایران پر قابو پانے کی مہنگی مہم اور "کلاسیکل آپشنز کا ناممکن ہونے پر زور واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ مغربی اسٹریٹجک حلقوں میں، اندرونی عدم استحکام کے بعض منظرنامے براہ راست دباؤ کے متبادل کے طور پر ادارہ جاتی شکل اختیار کر رہے ہیں۔
اس فریم ورک میں، نسلی اور مذہبی اجزاء کی بنیاد پر ایران کی تقسیم رفتہ رفتہ امریکہ اور صیہونی حکومت کی خارجہ پالیسی میں ایک "بڑا فارمولہ" بن رہی ہے۔ یہ فارمولہ قومی ہم آہنگی کو کمزور کرنے، شناخت کے خلاء کو بھڑکانے اور ایران کے ثقافتی تنوع کو سیاسی تنازعے کے آلے میں تبدیل کرنے پر مبنی ہے۔ عراق اور شام سے لے کر لیبیا تک خطے کے ممالک کا تجربہ بتاتا ہے کہ تقسیم کا منصوبہ ضروری نہیں کہ فوجی مہم سے شروع ہو، بلکہ علمی جنگ، میڈیا کے دباؤ اور سماجی بحرانوں کی پیداوار کے راستے سے بھی ممکن ہے۔ ایران میں حالیہ بدامنی اور بدامنی کا اس حکمت عملی سے الگ کرکے تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔ سماجی بغاوتیں پیدا کرنا، مطالبات کو منتخب طور پر اجاگر کرنا اور حقیقی مسائل کو شناخت کے بحران میں تبدیل کرنا بالکل اسی مقصد کے مطابق ہے، جسے مغربی تھنک ٹینکس نے ڈیزائن کیا ہے۔ عوامی اعتماد کو ختم کرنا اور قومی ریاست کے تعلقات کو کمزور کرنا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
اس دوران ایران کو کمزور کرنے میں صیہونی حکومت کا کردار اہم فائدہ اٹھانے والوں میں سے ایک کے طور پر بالکل واضح ہے۔ ایک ایسی حکومت جو اپنے وجود کی وضاحت اندرونی تنازعات اور طاقتور علاقائی ریاستوں کے خاتمے سے کرتی ہے۔ مغربی میڈیا اور فارسی بولنے والی انقلاب دشمن تحریکیں بھی اس مساوات میں ایک کردار ادا کرتی ہیں، جو کہ مبصر اور تماشائی ہونے سے بالاتر ہیں۔ یہ عناصر "متاثرین" کے طور پر کام کرتے ہیں اور حقائق کو مسخ کرکے، مسائل کو بڑھا چڑھا کر اور ایران کی صورتحال کے بارے میں غلط بیانیوں کو جنم دے کر عدم استحکام کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ عناصر اور مغربی ذرائع ابلاغ محض معلومات کے اوزار نہیں ہیں بلکہ ایک علمی جنگی مشین کا حصہ ہیں، جس کا مشن معاشرے کو خطرناک علیحدگی پسند منظرناموں کو قبول کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا ہے۔
تاہم، جو چیز اس میدان میں مغربی حکمت عملی کے مخالف کے طور پر سامنے آتی ہے، وہ ہے "ایرانی قوم کا اجتماعی شعور۔" تاریخی تجربے، تہذیبی یادداشت اور ٹوٹ پھوٹ کے تباہ کن نتائج کی گہری سمجھ نے ایرانی معاشرے کو اس مذموم منصوبے کے لیے حساس اور چوکنا بنا دیا ہے۔ حساس موڑ پر عوام کی وسیع پیمانے پر موجودگی، علاقائی سالمیت کا واضح دفاع اور افراتفری پر مبنی منصوبوں کے ساتھ واضح حد بندی اور صف بندی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایران کا سماجی سرمایہ، مغربی حسابات کے برعکس، اب بھی زندہ اور موثر ہے۔
بہرحال ایران کے ٹوٹنے اور اس کی تقسیم کا منصوبہ محض ایک خطرے سے زیادہ اہم ہے۔ یہ ایرانی قوم کی سیاسی پختگی کو جانچنے کا امتحان ہے۔ مغرب نے ایران کی تقسیم کے لئے سرمایہ کاری کی ہے، لیکن ایرانی معاشرے نے اتحاد میں سرمایہ کاری کی ہے۔ جب تک اس اجتماعی شعور کو برقرار رکھا جائے گا اور عوام کے جائز مطالبات کو جیو پولیٹیکل گیمز کا آلہ کار نہیں بننے دیا جائے گا، تب تک تقسیم کا فارمولہ چاہے اسے واشنگٹن اور تل ابیب کے تھنک ٹینکس میں کتنا ہی دہرایا جائے، نہ تو حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے اور نہ ہی حقیقت کے میدان میں عملی جامہ پہن سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری کی ہے ایران کی تقسیم کے طور پر ایران کے تقسیم کا میں ایک جائے گا سکتا ہے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔