پاکستان کے ایران اور امارات کے ساتھ سفارتی و معاشی روابط مزید مستحکم
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
پاکستان کے ایران اور امارات کے ساتھ سفارتی و معاشی روابط دن بہ دن مزید مستحکم ہوتے جا رہے ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے اور عالمی سطح پر جاری اہم پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران سے متعلق قرارداد پر پاکستان کے اصولی مؤقف، ووٹنگ کے مطالبے اور قرارداد کے خلاف ووٹ دینے پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کے لیے گہری قدردانی اور تشکر کا اظہار بھی کیا۔
علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے دبئی میں متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ حکومتی و کاروباری رہنما، جاسم محمد بو عطابہ الزعابی سے ملاقات کی، جو ابوظبی ڈیپارٹمنٹ آف فنانس کے چیئرمین، سپریم کونسل برائے مالی و اقتصادی امور کے سیکریٹری جنرل، اتصالات (e&) کے چیئرمین اور ابوظبی ہولڈنگ کمپنی (ADQ) کے وائس چیئرمین ہیں۔
ملاقات میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات، باہمی اعتماد اور تعاون کو دوطرفہ شراکت داری کی مضبوط بنیاد قرار دیا گیا۔ اس موقع پر فریقین نے پاک یو اے ای تجارت اور اقتصادی تعاون کا جائزہ بھی لیا۔
ملاقات میں پاکستان میں یو اے ای کی سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات پر غور کیا اور اتصالات (e&) کی پاکستان میں جاری سرمایہ کاری، بالخصوص پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) میں اس کے شیئرز کے حوالے سے امور پر تبادلۂ خیال کیا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے نجی شعبے اور شراکت دار ممالک کی سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا اور دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی روابط مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے پی ٹی سی ایل سے متعلق دیرینہ مسائل کے بروقت حل اور مستقبل کی ترقی کے لیے قریبی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
جاسم محمد بو عطابہ الزعابی نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ، موجودہ مسائل کے حل اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے مکمل تعاون اور عزم کا اعادہ کیا۔ فریقین نے قیادت کی رہنمائی کے مطابق زیر التوا معاملات کے جلد حل اور تجارت، سرمایہ کاری و مشترکہ منصوبوں کے نئے مواقع پیدا کرنے پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں سفیر شفقت علی خان، ٹریڈ کونسلر علی زیب، قائم مقام قونصل جنرل فواد علی خان اور تھرڈ سیکریٹری فراز ارشد شریک تھے جب کہ یو اے ای کی جانب سے اتصالات یو اے ای کے سی ای او مسعود محمد شریف موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری پاکستان کے امارات کے یو اے ای کے لیے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔