اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی گزشتہ روز ایک  اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار سے نشست ہوئی جس میں شرکاء کے ساتھ اہم سکیورٹی معاملات پر کھل کر بات چیت کی گئی۔ حکام نے شرکاء کے تمام سوالات کے تفصیلی جوابات دیئے۔ بات چیت  کے اختتام پر شرکاء نے سکیورٹی حکام کی طرف سے دی جانے والی بریفنگ کو سراہا۔ بریفنگ کے اہم مندرجات درج ذیل ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق  پاکستان ہر حال میں اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے گا۔  پاکستان کا مفاد سب کیلئے مقدم ہے اور ہمارے تمام قومی فیصلوں کا محور پاکستان اور پاکستانی عوام کا مفاد ہے۔ فوج اور قوم کے درمیان کوئی دراڑ ڈال سکتا ہے  نہ ہی کسی کو اس کی اجازت دی جائے گی۔ یہ رشتہ بہت گہرا ہے۔  تمام سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادت قابلِ احترام ہیں تاہم کوئی بھی اپنی ذات کو پاکستان سے بالاتر نہ سمجھے۔  موجودہ سیاسی قیادت  قابل احترام ہے جس نے وقت کے تقاضوں کے مطابق مشکل لیکن بروقت اور دلیر فیصلے کیے۔ قیاس آرائیوں کے تدارک اور حقائق کی ترویج کیلئے روابط ضروری ہیں، ہمیں کسی کی حب الوطنی پر شک نہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو مثبت سمت میں گامزن کرنے کیلئے میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ پاکستان کبھی بھی فلسطینی عوام کی امنگوں کے خلاف نہیں جائے گا۔ اس وقت غزہ میں ہونے والی خونریزی کو روکنا ہماری اور دوست مسلمان ممالک  کی اولین کوشش ہے۔ کسی بھی فورس کی تشکیل، مینڈیٹ اور تعیناتی کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ امن بورڈ کا قیام غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے ہے۔  افواج کی بیرون ملک کسی بھی تعیناتی کا فیصلہ  حکومت کا استحقاق ہے۔  پاکستان کی افواج حماس کو غیر مسلح کرنے میں حصہ دار نہیں ہوں گی۔ حماس کو غیر مسلح کرنے میں شرکت ہماری ریڈ لائن ہے۔ پاکستان فلسطین کے مسئلے پر اپنے اصولی مؤقف پر آج بھی قائم ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا۔  غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ 8 بڑے اسلامی  ممالک سے مشاورت اور مکمل سوچ بچار کے بعد کیا۔ فلسطینیوں کی نسل کشی سے اسرائیل کو صرف امریکا ہی روکنے کی پوزیشن میں ہے۔ غزہ میں خون ریزی کو سیاسی عمل اور بات چیت سے ہی روکا جاسکتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی میں کثیر الجہتی طریقہ اپناتا رہا ہے۔ پاکستان چین تعلقات مضبوط اور سٹرٹیجک ہیں اور باہمی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔  بھارت اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ سے پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول اور مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کرانے کیلئے تمام کوششیں بروئے کار لاتا رہے گا۔ کشمیر بنے گا پاکستان، ہمارا قومی عزم ہے۔  قومی ایکشن پلان ایک متفقہ دستاویز ہے جس کی توثیق تمام سیاسی جماعتوں نے کی۔ دہشت گردی کے مکمل تدارک کیلئے اس پر سب کو عمل کرنا ہوگا۔  انسداد دہشت گردی کیلئے افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے شب وروز قربانیاں دے رہے ہیں۔ مکمل کامیابی کا حصول تمام سٹیک ہولڈرز کی یکسوئی کے ساتھ کردار ادا کرنے سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔  ملک سے دہشت گردی ختم کرنے کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو  خلوص نیت سے کام کرنا ہو گا۔ بلوچستان میں سیاسی سرپرستی میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد، گورننس، روزگار کے مواقع کی فراہمی، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور اداروں کی استعداد کار میں اضافے سے سکیورٹی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔ افغانستان کی طرف سے جارحیت کے مؤثر جواب کے بعد سرحد پار سے دہشتگردی کے واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی۔ معرکہ حق سے متعلق تمام فیصلے وزیراعظم کی سربراہی میں حکومت وقت نے کیے۔  افوج پاکستان نے معرکہ حق میں اپنی پیشہ ورانہ رائے دی۔ ہمارے سیاستدانوں اور سفارتکاروں نے معرکہ حق کے بعد بہترین سفارتکاری کی۔ سیاستدانوں کی ملک کیلئے گراں قدر خدمات ہیں۔ پاکستان جمہوریت سے ہی آگے بڑھے گا۔ آرمی چیف‘ چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جمہوری اقدار کے فروغ پر یقین رکھتے ہیں۔ کسی صوبائی حکومت کو سکیورٹی بریفنگ کیلئے وفاق سے رجوع کرنا چاہئے۔ سیاست، مالی فائدے یا مذہب کا لبادہ اوڑھ کر دہشت گردی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار