Express News:
2026-06-02@23:30:50 GMT

مرزا غالب اور ادارہ یادگار غالب

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

10 اگست 2025 کو غالب لائبریری کے انتخابات کے لیے ایک خوبصورت محفل کا اہتمام کیا گیا، صدور کے عہدوں پر پروفیسر سحر انصاری اور فہیم اسلام انصاری، معتمد عمومی ڈاکٹر رانا خالد محمود، خازن انصار شیخ اور نائب معتمد کا عہدہ ہمارے حصے میں آیا تھا، مجلس عاملہ کے لیے ڈاکٹر رؤف پاریکھ، پروفیسر ڈاکٹر تنظیم الفردوس، ڈاکٹر رخسانہ صبا اور دوسرے کئی اہل علم و فن کا انتخاب عمل میں آیا۔

غالب لائبریری میں ہر ماہ پابندی کے ساتھ پروگراموں کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں اراکین کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے معتمد عمومی ڈاکٹر رانا خالد پیغام رسانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ کتابوں کی تقریب رونمائی اور شخصیات کے اعزاز میں بھی تقریب سپاس منعقد کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ بہت کم قیمت میں ہدیہ کے طور پرکتابیں فروخت کی جاتی ہیں اورکچھ کتابیں غالب کے چاہنے والوں اور قدر دانوں کو تحفتاً بھی مل جاتی ہیں۔ہمیں بھی تین کتابوں کے حصول کے ساتھ مطالعے کا موقع ملا۔

’’غالب لائبریری کی کہانی مرزا ظفرالحسن کی زبانی‘‘ مرتبہ ابرار عبدالسلام، ’’غالب اور لغت نویسی‘‘ مرتبہ رؤف پاریکھ، تیسری ’’یادگار غالب‘‘ مولانا الطاف حسین حالی کی مرتب کردہ ’’ یادگار غالب‘‘ اس کتاب پر جب بھی نگاہ پڑتی ہے تو ہمیں اپنا تعلیمی زمانہ یاد آ جاتا ہے اور وہ بک شیلف بھی جس میں دینی، علمی اور ادبی کتابوں کا ذخیرہ موجود تھا۔ یہ ہمارے والد اور بڑے بھائی کا شوق تھا اور نصابی کتب بھی شامل تھیں۔

حماقتیں، مزید حماقتیں، کرنیں، مصنف شفیق الرحمن، مولانا مودودی اور علامہ شبلی نعمانی کی کتابیں زیر مطالعہ رہیں۔ اب جب کہ یہ تینوں کتابیں ہمارے سامنے ہیں اور ہمارے شوق کو جلا بخش رہی ہیں کہ ہم ان سے استفادہ کریں اور پھرکچھ ضرور لکھیں بغیر لکھے تو ہمارا کام بنتا ہے نہ چین پڑتا ہے۔ تو پہلے یادگار غالب کی طرف آتے ہیں۔ مرزا اسداللہ خاں غالب کی ولادت 27 دسمبر 1797 ہے اور وفات 15 فروری 1869۔ کتاب کی اشاعت غالب کے دو صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر ہوئی۔ ’’ یادگار غالب‘‘ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ’’ دیوان ریختہ کا انتخاب‘‘ اس حصے میں غزلیات، قطعات، رباعیات اور غزلیات فارسی کا انتخاب وغیرہ شامل ہے۔

مولانا حالی نے مرزا غالب کی زندگی اور شعر و فن کے تمام گوشوں پر روشنی ڈالی ہے جب کہ پہلے اور دوسرے ابواب میں ان کا خاندان، ننھیال، تعلیمی مراحل، سفرکلکتہ، سرکاری ملازمت سے انکاری اور ذاتی حالات، ناؤنوش کی عادت آخری عمر اور مرض الموت کے حالات درج ہیں۔خواجہ الطاف حسین حالی نے مرزا کے مصائب و تکالیف اور زمانے کی ناقدری اور مرزا کے ساتوں بچوں کی پیدائش اور انتقال کا تذکرہ بھی ملتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے، مرزا کی پوری زندگی کا احاطہ مکمل اور ذاتی معلومات کے ساتھ کیا ہے۔ مرزا غالب کی زندگی میں پے در پے صدمے اور آزمائشیں آئیں، ان دکھوں نے انھیں غم زدہ کردیا، دکھ کی چادر ادھر ہی نہیں سمٹتی ہے بلکہ مزید دراز ہو جاتی ہے، وہ اس طرح کہ اپنی بی بی کے بھانجے زین العابدین عارف کے انتقال کے بعد گویا کمر ٹوٹ ہی گئی مگر ہمت نہیں ہاری اور زین العابدین خان عارف کے دونوں بچے باقر علی خان اور دوسرے حسین علی خان ان دنوں دونوں ہی کم عمر تھے۔

مرزا نے انھیں اپنی سرپرستی میں لے لیا، یہ دونوں نہایت شریف النفس اور معصوم تھے، افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے دونوں بھانجوں کا انتقال مرزا کی وفات کے تھوڑے عرصے بعد ہوگیا، یہ بھی اللہ کی حکمت تھی جو مرزا کے حق میں بہتر ثابت ہوئی، ورنہ انھیں ایک اور بڑے صدمے سے دوچار ہونا پڑتا، نہ جانے اس کا یارا بھی ہوتا کہ نہیں۔ چونکہ جب زین العابدین عارف جواں عمری میں مرزا کو داغ مفارقت دے گئے تو مرزا اور ان کی اہلیہ سخت صدمے سے دوچار ہوئے۔ مرزا غالب نے اپنے اس دکھ کو اپنی غزل بطور نوحہ کے عنوان سے لکھی ہے ہر شعر درد میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس غزل سے چند اشعار:

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دن اور
تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب ! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
ہاں اے فلک پیر جواں تھا ابھی عارف
کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور

مرزا نے اپنی کتاب ’’ ہرنیمروز‘‘ میں ایک موقع پر بہادر شاہ کی طرف خطاب کرکے یہ ظاہرکیا ہے کہ شاہجہان کے عہد میں کلیم شاعرکو سیم و زر میں تولا گیا، مگر میں صرف اس قدر چاہتا ہوں کہ اورکچھ نہیں تو میرا کلام ہی ایک دفعہ کلیم کے کلام کے ساتھ تول لیا جائے، اس مضمون کو جو لوگ مرزا کے رتبے سے واقف نہیں ہیں شاید خود ستائی اور تعلی پرمحمول کریں گے، مگر ہمارے نزدیک مرزا نے اس میں کچھ مبالغہ نہیں کیا بلکہ بالکل وہی کیا ہے جو ان کے زمانے کے اہل نظر اور اہل تمیز ان کی نسبت رائے رکھتے تھے۔

‘‘دوسری کتاب ڈاکٹر رؤف پاریکھ کی مرتب کردہ ہے۔ 211 اوراق پر تنقیدی توصیفی مضامین سے مرصع ہے۔ ’’معروضات‘‘ کے عنوان سے۔ ڈاکٹر تنظیم الفردوس کی معلوماتی اور وقیع تحریر درج ہے، جب کہ ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے ’’عرض مرتب‘‘ کا نام دے کر ایک وضاحتی و ناقدانہ مضمون قلم بند کرکے غالب کے چاہنے والوں کی معلومات میں اضافہ کیا ہے۔ مضمون کا قاری اس بات سے اچھی طرح واقف ہو جاتا ہے کہ دس، بارہ سال قبل کا قصہ ہے کہ آرٹس کونسل کی عالمی اردوکانفرنس میں لغت نویسی کی نشست میں یہ مضمون پڑھا گیا، عنوان تھا ’’ غالب اور لغت نویسی‘‘ مقالے کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ غالب نے فارسی کی مشہور لغت ’’ برہان قاطع‘‘ پر جو سخت تنقید ’’ قاطع برہان‘‘ کے نام سے کی تھی، اس میں غالب کے اکثر اعتراضات غلط تھے اور اس میں سے چند ہی ایسے ہیں جنھیں درست کہا جاسکتا ہے۔

دوسرے یہ کہ غالب نے اس لغت پر تنقید کرتے ہوئے، جس درشتی بلکہ استہزا سے کام لیا وہ سراسر ناروا تھا۔ ڈاکٹر رؤف پاریکھ اختتامی سطور میں لکھتے ہیں ’’ مقالے کا مقصد غالب کی مخالفت یا ان کی لغت نویسی پر نکتہ چینی نہیں ہے بلکہ ایک علمی بحث کو سمجھنے کی کوشش ہے۔‘‘ غالب نے کہا ہے:
’’ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرف دار نہیں‘‘

ابرار عبدالسلام کی کتاب غالب لائبریری کی کہانی مرزا ظفرالحسن کی زبانی، اس کتاب کی ابتدا ڈاکٹر تنظیم الفردوس کے مضمون معروضات سے ہوتی ہے وہ لکھتی ہیں جنوری 1968 میں فیض احمد فیض اور سبط حسن کے مشورے اور تحریک پر ’’ ادارہ یادگار غالب‘‘ کے نام سے تن تنہا انجمن قائم کرنے اور پھر اسے برسوں چلانے نہ صرف پاک و ہند بلکہ دنیا بھر میں اعتبار بخشنے والے مرزا ظفرالحسن اپنی ذات میں بھی ایک انجمن ہی تھے۔ ڈاکٹر فردوس نے اپنے مضمون کے ذریعے غالب لائبریری اور جریدہ غالب کی اشاعت کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔

’’داستان ایک عہد کی‘‘ اس عنوانات کے تحت مرزا ظفرالحسن کی زندگی، ادب سے محبت اور ادارہ غالب کی تعمیر و تشکیل، اغراض و مقاصد، مجلس عاملہ اور اراکین کمیٹی، غالب لائبریری کا قیام، کتب کی جمع آوری، رسائل، انھی موضوعات کے تحت ادارہ یادگار غالب کے تحت بہت سی معلومات سامنے آتی ہیں۔ مرزا ظفرالحسن اور لطیف الزماں خان کی مراسلت، جہد مسلسل اور کامیابی کے خوبصورت رنگوں سے آشنائی ہوتی ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: غالب لائبریری مرزا ظفرالحسن یادگار غالب کوئی دن اور لغت نویسی مرزا غالب غالب کی مرزا کے کے ساتھ غالب کے غالب نے کیا ہے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا