Express News:
2026-07-24@01:02:24 GMT

مرزا غالب اور ادارہ یادگار غالب

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

10 اگست 2025 کو غالب لائبریری کے انتخابات کے لیے ایک خوبصورت محفل کا اہتمام کیا گیا، صدور کے عہدوں پر پروفیسر سحر انصاری اور فہیم اسلام انصاری، معتمد عمومی ڈاکٹر رانا خالد محمود، خازن انصار شیخ اور نائب معتمد کا عہدہ ہمارے حصے میں آیا تھا، مجلس عاملہ کے لیے ڈاکٹر رؤف پاریکھ، پروفیسر ڈاکٹر تنظیم الفردوس، ڈاکٹر رخسانہ صبا اور دوسرے کئی اہل علم و فن کا انتخاب عمل میں آیا۔

غالب لائبریری میں ہر ماہ پابندی کے ساتھ پروگراموں کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں اراکین کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے معتمد عمومی ڈاکٹر رانا خالد پیغام رسانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ کتابوں کی تقریب رونمائی اور شخصیات کے اعزاز میں بھی تقریب سپاس منعقد کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ بہت کم قیمت میں ہدیہ کے طور پرکتابیں فروخت کی جاتی ہیں اورکچھ کتابیں غالب کے چاہنے والوں اور قدر دانوں کو تحفتاً بھی مل جاتی ہیں۔ہمیں بھی تین کتابوں کے حصول کے ساتھ مطالعے کا موقع ملا۔

’’غالب لائبریری کی کہانی مرزا ظفرالحسن کی زبانی‘‘ مرتبہ ابرار عبدالسلام، ’’غالب اور لغت نویسی‘‘ مرتبہ رؤف پاریکھ، تیسری ’’یادگار غالب‘‘ مولانا الطاف حسین حالی کی مرتب کردہ ’’ یادگار غالب‘‘ اس کتاب پر جب بھی نگاہ پڑتی ہے تو ہمیں اپنا تعلیمی زمانہ یاد آ جاتا ہے اور وہ بک شیلف بھی جس میں دینی، علمی اور ادبی کتابوں کا ذخیرہ موجود تھا۔ یہ ہمارے والد اور بڑے بھائی کا شوق تھا اور نصابی کتب بھی شامل تھیں۔

حماقتیں، مزید حماقتیں، کرنیں، مصنف شفیق الرحمن، مولانا مودودی اور علامہ شبلی نعمانی کی کتابیں زیر مطالعہ رہیں۔ اب جب کہ یہ تینوں کتابیں ہمارے سامنے ہیں اور ہمارے شوق کو جلا بخش رہی ہیں کہ ہم ان سے استفادہ کریں اور پھرکچھ ضرور لکھیں بغیر لکھے تو ہمارا کام بنتا ہے نہ چین پڑتا ہے۔ تو پہلے یادگار غالب کی طرف آتے ہیں۔ مرزا اسداللہ خاں غالب کی ولادت 27 دسمبر 1797 ہے اور وفات 15 فروری 1869۔ کتاب کی اشاعت غالب کے دو صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر ہوئی۔ ’’ یادگار غالب‘‘ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ’’ دیوان ریختہ کا انتخاب‘‘ اس حصے میں غزلیات، قطعات، رباعیات اور غزلیات فارسی کا انتخاب وغیرہ شامل ہے۔

مولانا حالی نے مرزا غالب کی زندگی اور شعر و فن کے تمام گوشوں پر روشنی ڈالی ہے جب کہ پہلے اور دوسرے ابواب میں ان کا خاندان، ننھیال، تعلیمی مراحل، سفرکلکتہ، سرکاری ملازمت سے انکاری اور ذاتی حالات، ناؤنوش کی عادت آخری عمر اور مرض الموت کے حالات درج ہیں۔خواجہ الطاف حسین حالی نے مرزا کے مصائب و تکالیف اور زمانے کی ناقدری اور مرزا کے ساتوں بچوں کی پیدائش اور انتقال کا تذکرہ بھی ملتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے، مرزا کی پوری زندگی کا احاطہ مکمل اور ذاتی معلومات کے ساتھ کیا ہے۔ مرزا غالب کی زندگی میں پے در پے صدمے اور آزمائشیں آئیں، ان دکھوں نے انھیں غم زدہ کردیا، دکھ کی چادر ادھر ہی نہیں سمٹتی ہے بلکہ مزید دراز ہو جاتی ہے، وہ اس طرح کہ اپنی بی بی کے بھانجے زین العابدین عارف کے انتقال کے بعد گویا کمر ٹوٹ ہی گئی مگر ہمت نہیں ہاری اور زین العابدین خان عارف کے دونوں بچے باقر علی خان اور دوسرے حسین علی خان ان دنوں دونوں ہی کم عمر تھے۔

مرزا نے انھیں اپنی سرپرستی میں لے لیا، یہ دونوں نہایت شریف النفس اور معصوم تھے، افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے دونوں بھانجوں کا انتقال مرزا کی وفات کے تھوڑے عرصے بعد ہوگیا، یہ بھی اللہ کی حکمت تھی جو مرزا کے حق میں بہتر ثابت ہوئی، ورنہ انھیں ایک اور بڑے صدمے سے دوچار ہونا پڑتا، نہ جانے اس کا یارا بھی ہوتا کہ نہیں۔ چونکہ جب زین العابدین عارف جواں عمری میں مرزا کو داغ مفارقت دے گئے تو مرزا اور ان کی اہلیہ سخت صدمے سے دوچار ہوئے۔ مرزا غالب نے اپنے اس دکھ کو اپنی غزل بطور نوحہ کے عنوان سے لکھی ہے ہر شعر درد میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس غزل سے چند اشعار:

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دن اور
تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب ! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
ہاں اے فلک پیر جواں تھا ابھی عارف
کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور

مرزا نے اپنی کتاب ’’ ہرنیمروز‘‘ میں ایک موقع پر بہادر شاہ کی طرف خطاب کرکے یہ ظاہرکیا ہے کہ شاہجہان کے عہد میں کلیم شاعرکو سیم و زر میں تولا گیا، مگر میں صرف اس قدر چاہتا ہوں کہ اورکچھ نہیں تو میرا کلام ہی ایک دفعہ کلیم کے کلام کے ساتھ تول لیا جائے، اس مضمون کو جو لوگ مرزا کے رتبے سے واقف نہیں ہیں شاید خود ستائی اور تعلی پرمحمول کریں گے، مگر ہمارے نزدیک مرزا نے اس میں کچھ مبالغہ نہیں کیا بلکہ بالکل وہی کیا ہے جو ان کے زمانے کے اہل نظر اور اہل تمیز ان کی نسبت رائے رکھتے تھے۔

‘‘دوسری کتاب ڈاکٹر رؤف پاریکھ کی مرتب کردہ ہے۔ 211 اوراق پر تنقیدی توصیفی مضامین سے مرصع ہے۔ ’’معروضات‘‘ کے عنوان سے۔ ڈاکٹر تنظیم الفردوس کی معلوماتی اور وقیع تحریر درج ہے، جب کہ ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے ’’عرض مرتب‘‘ کا نام دے کر ایک وضاحتی و ناقدانہ مضمون قلم بند کرکے غالب کے چاہنے والوں کی معلومات میں اضافہ کیا ہے۔ مضمون کا قاری اس بات سے اچھی طرح واقف ہو جاتا ہے کہ دس، بارہ سال قبل کا قصہ ہے کہ آرٹس کونسل کی عالمی اردوکانفرنس میں لغت نویسی کی نشست میں یہ مضمون پڑھا گیا، عنوان تھا ’’ غالب اور لغت نویسی‘‘ مقالے کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ غالب نے فارسی کی مشہور لغت ’’ برہان قاطع‘‘ پر جو سخت تنقید ’’ قاطع برہان‘‘ کے نام سے کی تھی، اس میں غالب کے اکثر اعتراضات غلط تھے اور اس میں سے چند ہی ایسے ہیں جنھیں درست کہا جاسکتا ہے۔

دوسرے یہ کہ غالب نے اس لغت پر تنقید کرتے ہوئے، جس درشتی بلکہ استہزا سے کام لیا وہ سراسر ناروا تھا۔ ڈاکٹر رؤف پاریکھ اختتامی سطور میں لکھتے ہیں ’’ مقالے کا مقصد غالب کی مخالفت یا ان کی لغت نویسی پر نکتہ چینی نہیں ہے بلکہ ایک علمی بحث کو سمجھنے کی کوشش ہے۔‘‘ غالب نے کہا ہے:
’’ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرف دار نہیں‘‘

ابرار عبدالسلام کی کتاب غالب لائبریری کی کہانی مرزا ظفرالحسن کی زبانی، اس کتاب کی ابتدا ڈاکٹر تنظیم الفردوس کے مضمون معروضات سے ہوتی ہے وہ لکھتی ہیں جنوری 1968 میں فیض احمد فیض اور سبط حسن کے مشورے اور تحریک پر ’’ ادارہ یادگار غالب‘‘ کے نام سے تن تنہا انجمن قائم کرنے اور پھر اسے برسوں چلانے نہ صرف پاک و ہند بلکہ دنیا بھر میں اعتبار بخشنے والے مرزا ظفرالحسن اپنی ذات میں بھی ایک انجمن ہی تھے۔ ڈاکٹر فردوس نے اپنے مضمون کے ذریعے غالب لائبریری اور جریدہ غالب کی اشاعت کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔

’’داستان ایک عہد کی‘‘ اس عنوانات کے تحت مرزا ظفرالحسن کی زندگی، ادب سے محبت اور ادارہ غالب کی تعمیر و تشکیل، اغراض و مقاصد، مجلس عاملہ اور اراکین کمیٹی، غالب لائبریری کا قیام، کتب کی جمع آوری، رسائل، انھی موضوعات کے تحت ادارہ یادگار غالب کے تحت بہت سی معلومات سامنے آتی ہیں۔ مرزا ظفرالحسن اور لطیف الزماں خان کی مراسلت، جہد مسلسل اور کامیابی کے خوبصورت رنگوں سے آشنائی ہوتی ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: غالب لائبریری مرزا ظفرالحسن یادگار غالب کوئی دن اور لغت نویسی مرزا غالب غالب کی مرزا کے کے ساتھ غالب کے غالب نے کیا ہے

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف