اسلام آباد:

پاکستانی اسکالر محمد ابراہیم نے ٹرونڈ ہائیم میں نارویجن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی NTNU میں نینو سائنسز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرلی۔

محمد ابراہیم نے (NTNU) ناروے میں نینو سائنسز میں اپنے پی ایچ ڈی تھیسس (سیلیکون بیسڈ میٹریل فار ایڈیٹیو مینوفیکچرنگ) کا کامیابی سے دفاع کیا۔ یہ کامیابی ابراہیم کے تعلیمی کیریئر میں ایک اہم سنگ میل کی نشاندہی کرتی ہے اور نینو ٹیکنالوجی کے بارے میں عالمی سائنسی برادری کی تحقیق کا ایک اہم حصہ ہے۔

محمد ابراہیم کی ڈاکٹریٹ کی اس تحقیق نے نینو میٹریلز کے پیچیدہ اطلاق پر توجہ مرکوز کروائی ہے، اس میں نئی جہتوں کو متعارف کروا کر سکھایا ہے کہ  ان ٹیکنالوجیز کو جدید صنعت اور طب میں کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 تھیسسز کا دفاع بین الاقوامی ماہرین کے ایک پینل کے سامنے کیا گیا، جنہوں نے محمد ابراہیم  کے تجربات کی گہرائی اور اس کے نتائج کے عملی مضمرات کی تعریف کی۔

ڈاکٹر ابراہیم نے کہا کہ یونیورسٹی آف ٹرانڈہیم جیسے باوقار ادارے میں اس سفر کو مکمل کرنا ایک اعزاز کی بات ہے، ڈاکٹر محمد ابراہیم نے اس شاندار کامیابی کو اپنے والدین کی انتھک کوششوں اور دعاؤں کا ثمر  قرار دیا۔

انکا کہنا تھا کہ میں جدت کو فروغ دینے اور ممکنہ طور پر تکنیکی ترقی پر تعاون کے لیے اس علم کو بروئے کار لانے کا منتظر ہوں جس سے پاکستان اور عالمی سائنسی منظر نامے دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔

محمد ابراہیم کی یہ کامیابی پاکستانی محققین کی بڑھتی ہوئی فہرست میں اضافہ کرتی ہے جو بیرون ملک ہائی ٹیک شعبوں میں اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ ڈاکٹر ابراہیم نینو سائنس کے حل کے قابل توسیع انضمام پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تحقیق اور ترقی میں اپنا کام جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل محمد ابراہیم نے

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی