Express News:
2026-07-23@23:48:45 GMT

سوال یہ ہے کہ آگ بجھتی کیوں نہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

جب میں یہ کالم لکھ رہی تھی توکراچی کے گل پلازا میں لگی آگ کوبجھایا جا چکا تھا ۔ اسی دوران یہ خبر بھی گردش میں تھی کہ لوگوں کو بچاتے ہوئے ایک فائر فائٹر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ یہ ایک سوال تھا جو ریاست کے دروازے پر دستک دے رہا تھا اور ہمیشہ کی طرح شاید دروازہ بند ہی رہے گا۔

ہم اکثر سب سے پہلا سوال یہی کرتے ہیں کہ آگ کیسے لگی؟ شارٹ سرکٹ تھا یا جنریٹر پھٹا؟ کسی دکان میں گیس سلنڈر رکھا تھا یا وائرنگ پرانی تھی؟ یہ سوالات اہم ہو سکتے ہیں مگر بنیادی سوال یہ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد بجھتی کیوں نہیں؟ کیوں ہر آگ ہمارے یہاں ایک طویل تھکا دینے والا خوفناک تماشہ بن جاتی ہے جس میں انسانی جانیں داؤ پر لگتی ہیں۔ کروڑوں اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔

آگ تو دنیا میں کہیں بھی لگ سکتی ہے۔ لندن، پیرس، ٹوکیو، نیویارک کہاں آگ نہیں لگتی مگر فرق یہ ہے کہ وہاں یہ ایک خبر ہوتی ہے یہاں سانحہ بن جاتی ہے۔ 
کسی بھی مہذب معاشرے میں ایمرجنسی رسپانس ایک مکمل نظام ہوتا ہے کوئی وقتی بندوبست نہیں۔ فائر بریگیڈ کے پاس جدید گاڑیاں ہوتی ہیں، اونچی عمارتوں تک پہنچنے والی سیڑھیاں ہوتی ہیں، طاقتور واٹر پمپس ہوتے ہیں، آگ سے بچاؤکے خصوصی لباس ہوتے ہیں، آکسیجن ماسک ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر واضح منصوبہ بندی اور تربیت ہوتی ہے۔
وہاں فائر فائٹرکو ہیرو اس لیے نہیں کہا جاتا کہ وہ خالی ہاتھ موت کے منہ میں چلا جائے بلکہ اس لیے کہ ریاست اسے محفوظ رکھ کر آگ کے مقابل کھڑا کرتی ہے۔

ہمارے یہاں فائر فائٹر اکثر خود ایک خطرے میں گھرا ہوا انسان ہوتا ہے۔ پرانی گاڑی،ناکافی پانی، کمزور پمپ، محدود حفاظتی لباس اور سامنے شعلوں کا سمندر۔ اگر واقعی آج ایک فائر فائٹر جان سے گیا ہے تو سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں اندر گیا، سوال یہ ہے کہ ریاست نے اسے بہتر تحفظ کیوں نہیں دیا؟ یہ کیسی بہادری ہے جس میں بہادر کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے؟ مگر یہ کہانی صرف فائر بریگیڈ کی نہیں۔ یہ اس نظام کی کہانی ہے جو حادثے کے بعد جاگتا ہے اور اگلے حادثے تک سو جاتا ہے۔

کیا کبھی سنجیدگی سے یہ جانچ کی گئی کہ کراچی جیسے شہر میں موجود بلند عمارتیں آگ سے نمٹنے کے لیے کتنی تیار ہیں؟ کیا کسی نے یہ پوچھا کہ بازاروں، پلازوں اور شاپنگ سینٹروں میں فائر ایکسٹنگوشرز موجود بھی ہیں یا نہیں؟ اور اگر نہیں ہیں تو کیا کبھی کسی دکاندار کو واقعی سزا ملی؟ یا پھر یہ سب کاغذی کارروائی ہے، فائلوں میں محفوظ عوام کی زندگیوں سے کٹی ہوئی؟

سیول ڈیفنس، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، بلدیاتی ادارے یہ سب نام تو بڑے شاندار ہیں مگر زمین پر ان کی موجودگی اکثر آگ لگنے کے بعد نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آگ لگنے سے پہلے یہ ادارے کہاں ہوتے ہیں؟ کیا ان کی ذمے داری صرف حادثے کے بعد رپورٹ لکھنا ہے؟
ہم نے دیکھا ہے کہ کبھی فیکٹریاں جل جاتی ہیں، کبھی گھروں میں آگ لگ جاتی ہے، کبھی چولہے پھٹ جاتے ہیں، کبھی گودام خاک ہو جاتے ہیں۔ ہر بار ایک ہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔
انکوائری ہو گی، ذمے داروں کا تعین کیا جائے گا اور سخت ایکشن لیا جائے گا اور پھر سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے اور پھر اگلے حادثے کی خبر آجاتی ہے۔ 

اصل مسئلہ آگ نہیں، اصل مسئلہ غفلت کو معمول بنا لینا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے انسانی جان کو سستا سمجھ لیا ہے۔ ہم نے یہ مان لیا ہے کہ کچھ لوگ مریں گے، کچھ خاندان اجڑیں گے، کچھ فائر فائٹرز دفن ہوں گے اور شہر چلتا رہے گا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا شہر واقعی چل رہا ہے؟ یا ہم صرف ملبے کے اوپر زندگی کا ڈھونگ رچا رہے ہیں؟
ریاست کا کام یہ نہیں کہ وہ صرف حادثے کے بعد دکھ کا اظہار کرے۔ ریاست کا کام یہ ہے کہ حادثہ ہونے ہی نہ دے اور اگر ہو بھی جائے تو نقصان کم سے کم ہو۔

یہ کام اس وقت ہوتا ہے جب عمارتیں بنانے سے پہلے فائر سیفٹی پلان دیکھا جائے، جب بازاروں کا باقاعدہ معائنہ ہو، جب دکانداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ حفاظتی آلات رکھیں اور جب انکار پر واقعی کارروائی ہو۔ مگر ہمارے یہاں سوال پوچھنے والے کو ہی مسئلہ سمجھ لیا جاتا ہے، جو آواز اٹھائے وہ منفی کہلاتا ہے، جو احتساب مانگے وہ ریاست دشمن ٹھہرتا ہے، اور یوں آگ صرف عمارتوں میں نہیں لگتی ضمیر میں بھی لگتی ہے مگر وہ آگ ہمیں نظر نہیں آتی۔

گل پلازا کی آگ ایک بار پھر ہمیں یاد دلا رہی ہے کہ ہم کب تک حادثوں کے رحم وکرم پر زندہ رہیں گے؟ کب تک ہر سانحے کے بعد چند آنسو چند بیانات اور پھر خاموشی کیا ہم ہمیشہ اسی وقت حرکت میں آئیں گے، جب پانی سر سے اوپر گزر جائے گا۔ سوال یہ نہیں کہ آج آگ کیوں لگی۔سوال یہ ہے کہ کل لگنے والی آگ کے لیے ہم آج کیا کر رہے ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب خاموشی ہے تو یاد رکھنا چاہیے ،خاموشی بھی آگ کی طرح سب کچھ جلا دیتی ہے۔اور سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے بطور سماج سوال کرنا چھوڑ دیا ہے۔

حادثہ ختم ہوتا ہے تو ہم سوشل میڈیا پر چند دن شور مچاتے ہیں، تصاویر شیئر کرتے ہیں، غم و غصے کا اظہارکرتے ہیں اور پھر اگلی خبر ہمیں سب کچھ بھلا دیتی ہے۔ نہ کوئی اجتماعی دباؤ بنتا ہے نہ کوئی مستقل تحریک نہ کوئی یادداشت باقی رہتی ہے۔ اگر ہم واقعی زندہ سماج ہیں تو ہمیں ہر آگ کے بعد نہیں ہر آگ سے پہلے جاگنا ہوگا، ورنہ شعلے بار بار ہمیں یہ یاد دلاتے رہیں گے کہ غفلت کی قیمت ہمیشہ جانوں سے چکائی جاتی ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سوال یہ ہے کہ ہوتے ہیں یہ نہیں ہوتا ہے جاتی ہے نہیں کہ اور پھر ہیں کہ کے بعد

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف