سوال یہ ہے کہ آگ بجھتی کیوں نہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
جب میں یہ کالم لکھ رہی تھی توکراچی کے گل پلازا میں لگی آگ کوبجھایا جا چکا تھا ۔ اسی دوران یہ خبر بھی گردش میں تھی کہ لوگوں کو بچاتے ہوئے ایک فائر فائٹر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ یہ ایک سوال تھا جو ریاست کے دروازے پر دستک دے رہا تھا اور ہمیشہ کی طرح شاید دروازہ بند ہی رہے گا۔
ہم اکثر سب سے پہلا سوال یہی کرتے ہیں کہ آگ کیسے لگی؟ شارٹ سرکٹ تھا یا جنریٹر پھٹا؟ کسی دکان میں گیس سلنڈر رکھا تھا یا وائرنگ پرانی تھی؟ یہ سوالات اہم ہو سکتے ہیں مگر بنیادی سوال یہ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد بجھتی کیوں نہیں؟ کیوں ہر آگ ہمارے یہاں ایک طویل تھکا دینے والا خوفناک تماشہ بن جاتی ہے جس میں انسانی جانیں داؤ پر لگتی ہیں۔ کروڑوں اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔
آگ تو دنیا میں کہیں بھی لگ سکتی ہے۔ لندن، پیرس، ٹوکیو، نیویارک کہاں آگ نہیں لگتی مگر فرق یہ ہے کہ وہاں یہ ایک خبر ہوتی ہے یہاں سانحہ بن جاتی ہے۔
کسی بھی مہذب معاشرے میں ایمرجنسی رسپانس ایک مکمل نظام ہوتا ہے کوئی وقتی بندوبست نہیں۔ فائر بریگیڈ کے پاس جدید گاڑیاں ہوتی ہیں، اونچی عمارتوں تک پہنچنے والی سیڑھیاں ہوتی ہیں، طاقتور واٹر پمپس ہوتے ہیں، آگ سے بچاؤکے خصوصی لباس ہوتے ہیں، آکسیجن ماسک ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر واضح منصوبہ بندی اور تربیت ہوتی ہے۔
وہاں فائر فائٹرکو ہیرو اس لیے نہیں کہا جاتا کہ وہ خالی ہاتھ موت کے منہ میں چلا جائے بلکہ اس لیے کہ ریاست اسے محفوظ رکھ کر آگ کے مقابل کھڑا کرتی ہے۔
ہمارے یہاں فائر فائٹر اکثر خود ایک خطرے میں گھرا ہوا انسان ہوتا ہے۔ پرانی گاڑی،ناکافی پانی، کمزور پمپ، محدود حفاظتی لباس اور سامنے شعلوں کا سمندر۔ اگر واقعی آج ایک فائر فائٹر جان سے گیا ہے تو سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں اندر گیا، سوال یہ ہے کہ ریاست نے اسے بہتر تحفظ کیوں نہیں دیا؟ یہ کیسی بہادری ہے جس میں بہادر کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے؟ مگر یہ کہانی صرف فائر بریگیڈ کی نہیں۔ یہ اس نظام کی کہانی ہے جو حادثے کے بعد جاگتا ہے اور اگلے حادثے تک سو جاتا ہے۔
کیا کبھی سنجیدگی سے یہ جانچ کی گئی کہ کراچی جیسے شہر میں موجود بلند عمارتیں آگ سے نمٹنے کے لیے کتنی تیار ہیں؟ کیا کسی نے یہ پوچھا کہ بازاروں، پلازوں اور شاپنگ سینٹروں میں فائر ایکسٹنگوشرز موجود بھی ہیں یا نہیں؟ اور اگر نہیں ہیں تو کیا کبھی کسی دکاندار کو واقعی سزا ملی؟ یا پھر یہ سب کاغذی کارروائی ہے، فائلوں میں محفوظ عوام کی زندگیوں سے کٹی ہوئی؟
سیول ڈیفنس، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، بلدیاتی ادارے یہ سب نام تو بڑے شاندار ہیں مگر زمین پر ان کی موجودگی اکثر آگ لگنے کے بعد نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آگ لگنے سے پہلے یہ ادارے کہاں ہوتے ہیں؟ کیا ان کی ذمے داری صرف حادثے کے بعد رپورٹ لکھنا ہے؟
ہم نے دیکھا ہے کہ کبھی فیکٹریاں جل جاتی ہیں، کبھی گھروں میں آگ لگ جاتی ہے، کبھی چولہے پھٹ جاتے ہیں، کبھی گودام خاک ہو جاتے ہیں۔ ہر بار ایک ہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔
انکوائری ہو گی، ذمے داروں کا تعین کیا جائے گا اور سخت ایکشن لیا جائے گا اور پھر سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے اور پھر اگلے حادثے کی خبر آجاتی ہے۔
اصل مسئلہ آگ نہیں، اصل مسئلہ غفلت کو معمول بنا لینا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے انسانی جان کو سستا سمجھ لیا ہے۔ ہم نے یہ مان لیا ہے کہ کچھ لوگ مریں گے، کچھ خاندان اجڑیں گے، کچھ فائر فائٹرز دفن ہوں گے اور شہر چلتا رہے گا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا شہر واقعی چل رہا ہے؟ یا ہم صرف ملبے کے اوپر زندگی کا ڈھونگ رچا رہے ہیں؟
ریاست کا کام یہ نہیں کہ وہ صرف حادثے کے بعد دکھ کا اظہار کرے۔ ریاست کا کام یہ ہے کہ حادثہ ہونے ہی نہ دے اور اگر ہو بھی جائے تو نقصان کم سے کم ہو۔
یہ کام اس وقت ہوتا ہے جب عمارتیں بنانے سے پہلے فائر سیفٹی پلان دیکھا جائے، جب بازاروں کا باقاعدہ معائنہ ہو، جب دکانداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ حفاظتی آلات رکھیں اور جب انکار پر واقعی کارروائی ہو۔ مگر ہمارے یہاں سوال پوچھنے والے کو ہی مسئلہ سمجھ لیا جاتا ہے، جو آواز اٹھائے وہ منفی کہلاتا ہے، جو احتساب مانگے وہ ریاست دشمن ٹھہرتا ہے، اور یوں آگ صرف عمارتوں میں نہیں لگتی ضمیر میں بھی لگتی ہے مگر وہ آگ ہمیں نظر نہیں آتی۔
گل پلازا کی آگ ایک بار پھر ہمیں یاد دلا رہی ہے کہ ہم کب تک حادثوں کے رحم وکرم پر زندہ رہیں گے؟ کب تک ہر سانحے کے بعد چند آنسو چند بیانات اور پھر خاموشی کیا ہم ہمیشہ اسی وقت حرکت میں آئیں گے، جب پانی سر سے اوپر گزر جائے گا۔ سوال یہ نہیں کہ آج آگ کیوں لگی۔سوال یہ ہے کہ کل لگنے والی آگ کے لیے ہم آج کیا کر رہے ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب خاموشی ہے تو یاد رکھنا چاہیے ،خاموشی بھی آگ کی طرح سب کچھ جلا دیتی ہے۔اور سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے بطور سماج سوال کرنا چھوڑ دیا ہے۔
حادثہ ختم ہوتا ہے تو ہم سوشل میڈیا پر چند دن شور مچاتے ہیں، تصاویر شیئر کرتے ہیں، غم و غصے کا اظہارکرتے ہیں اور پھر اگلی خبر ہمیں سب کچھ بھلا دیتی ہے۔ نہ کوئی اجتماعی دباؤ بنتا ہے نہ کوئی مستقل تحریک نہ کوئی یادداشت باقی رہتی ہے۔ اگر ہم واقعی زندہ سماج ہیں تو ہمیں ہر آگ کے بعد نہیں ہر آگ سے پہلے جاگنا ہوگا، ورنہ شعلے بار بار ہمیں یہ یاد دلاتے رہیں گے کہ غفلت کی قیمت ہمیشہ جانوں سے چکائی جاتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوال یہ ہے کہ ہوتے ہیں یہ نہیں ہوتا ہے جاتی ہے نہیں کہ اور پھر ہیں کہ کے بعد
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔