کراچی، پاکستان کا پہلا دارالحکومت
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
کئی شکایتیں، رنجشیں اور شکوے ہیں، کراچی کی آواز سے جو مقتدرہ قوتوں اور ایوانوں تک پہنچ نہیں پاتیں۔ ایک طویل داستان ہے اس شہرکی اور گل پلازہ کے واقعے نے وہ تمام زخم کرید دیے۔ ایک طرف ہے بری حکمرانی، بے حسی جو اس واقعے کے ہونے پر سندھ کی حکومت اور میئرکراچی نے برتی ہے اور دوسری طرف یہ روش کہ اٹھارہویں ترمیم نے جو خود مختاری صوبوں کو دی ہے، شاید یہ سب اسی وجہ سے ہے، جیسے وفاق میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔
اربوں روپے کی کرپشن جو پچھلے سال ہوئی، جس کی نشاندہی آئی ایم ایف نے کی ہے، وہ صرف سندھ میں ہوئی ہے اور وفاق یا دوسرے صوبوں میں نہیں؟ اس ساری بحث میں دراصل اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی ہے کہ کراچی میں کیا ہو رہا ہے؟ مگرکراچی کے لوگوں کو بتی کے پیچھے نہیں لگایا جا سکتا، اب ان کو استعمال کرنا چھوڑ دیں۔
کراچی 1947 سے پہلے جوکچھ بھی تھا، اس وقت کو اب دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، مگر یہ ضرور ماننا چاہیے کہ یہ مہاجروں کا شہر تھا اور ہے۔ یہ سندھ کے لوگوں کی خندہ پیشانی تھی کہ انھوں نے کس طرح سے مہاجرین کا خوشدلی سے استقبال کیا۔ وہ لوگ جو ہندوستان سے ہجرت کرکے آئے تھے، ان کی اکثریت نے کراچی میں رہائش اختیار کی اور اب اس بات کو 78 سال کا عرصہ گزرچکا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کو ان لوگوں سے کوئی ہمدردی نہ تھی، مگر ان کو اپنے مقاصد حاصل کرنے تھے۔
گل پلازہ کے واقعے نے کراچی کی سیاست ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔ بشریٰ زیدی کا بس کے نیچے آنا، جس نے کراچی کی سیاست میں مہاجر لفظ اور ایک صوبے کی تحریک کو جنم دیا۔ تین عشروں سے کراچی کی سیاست پر راج کرنے والی سیاسی جماعت یعنی جماعتِ اسلامی کی سیاست کو پیچھے دھکیل دیا۔کراچی کے میئر عبدالستار افغانی نہیں بلکہ فاروق ستار بنے۔ ان کے بعد مصطفیٰ کمال آئے اور پھر وسیم اختر آئے، مگر بلدیاتی حکومت کی بدنصیبی یہ تھی کہ جب اس ملک میں آمریتیں آتی تھیں تو لوکل باڈیزگورنمنٹ کے لیے انتخابات ہوتے اور جب ملک میں جمہوریت رائج ہوتی تو لوکل باڈیزکو بند کردیا جاتا تھا۔
جب پاکستان بنا توکراچی کو ملک کا دار الخلافہ بنایا گیا اور اردوکو ملک کی قومی زبان کا درجہ دیا گیا۔ اس سے پہلے اردو زبان اور بنگالی زبان میں ٹاکرہ ہوا، وہ اس لیے کہ مشرقی پاکستان کی آبادی، مغربی پاکستان سے زیادہ تھی اور اردو زبان صرف ان کی تھی جو ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے، وہ یا توکراچی میں آباد ہوئے یا پھر سندھ میں۔ جو مہاجر مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب ہجرت کر کے آئے وہ پنجابی بولتے تھے اور وہ پنجاب میں رہے۔ جو مہاجرین پنجاب یا اس وقت کے صوبہ سرحد میں آباد ہوئے وہ ان میں جذب ہوگئے۔
اردو زبان تحریکِ پاکستان کی زبان تھی۔ تمام بوجھ وملبہ کراچی پرگرا،جب حکمران اس ملک کو آئین نہ دے سکے۔ جمہوریت یہاں چل نہ پائی اور حکمرانوں کی روش یہ تھی کہ یہاں تمام زبانیں، ثقافتیں، تاریخ و تہذیب کے معنی ہیں۔ ایک ایسا بیانیہ دیا گیا کہ یہ ملک مذہب کے نام پر بنا ہے۔ ہم نے غوریوں اورغزنویوں اور دوسرے تمام غیر ملکی حملہ آوروں کو اپنا ہیرو بنایا۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں ہندوستان کی تاریخ میں جانا پڑا۔ مغلیہ دور جو چار سو سال پر محیط ہے۔ اس حکومت میں اکبر بادشاہ نے مقامی ثقافت اور تہذیب کو قریب کیا۔
اکبر بادشاہ کی بادشاہت لگ بھگ پچاس سال تک قائم رہی اور اس کے دورِ حکومت میں ابھرتی تمام بغاوتوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ دراصل پاکستان کا وجود، مسلمانوں کے اس دور کے خاتمے کی رنجش تھی۔ پہلی سول نافرمانی1857 میں ہوئی جس کی قیادت ہندوستان کے مسلمانوں نے کی تھی یا پھر دہلی میں رہنے والے مسلمانوں نے کی تھی اور تقریباً نوے سال بعد 1940 میں جو سول نافرمانی کی تحریک چلی تھی، انگریز سامراجیت کے خلاف اس کی کال کانگریس نے دی تھی اور اس کی قیادت ہندو اکثریت نے کی تھی۔ کراچی اس تحریک کا تسلسل ہے۔ یہ کراچی جہاں یہ مہاجرین آکرآباد ہوئے تھے، آج ان کی تیسری نسل یہاں پروان چڑھ رہی ہے۔ اس شہر میں پٹھان، ہندکو بولنے والے، بلوچ، پنجابی اور بنگالی بھی رہتے ہیں۔
سندھ میں سب سے بڑی ہجرت بلوچوں نے کی تھی۔1740 میں نادر شاہ کے دلی پرحملے اور لوٹ مارکے بعدکلہوڑوں نے دوبارہ سندھ کی آزادی کا جھنڈا لہرایا۔ سوا سو سال پہلے سندھ کا دارالخلافہ ٹھٹھہ تھا،1843 میں انگریزوں نے بلوچوں سے سندھ کو فتح کیا اور اس کو ہندوستان کا حصہ بنایا، لٰہذا یہ بلوچ سندھ کا اٹوٹ حصہ ہیں، جن کو سندھی بنے ہوئے ڈیڑھ سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ کراچی برصغیرکی تقسیم سے پہلے بھی ایک مرکزی شہر تھا۔کراچی میں اکثریت رہنے والے سندھی ہندو، پارسی اور بلوچ بھی تھے۔ تقسیم کے بعد اس شہر کی ڈیموگرافی بدلی اور اکثریت یہاں اردو بولنے کی ہوئی، مگر اس کے باوجود یہاں مختلف زبانوں، ثقافتوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے آباد تھے۔ پچھلے پچیس سالوں میں اس شہرکی ماہیت مزید بدلی۔
یہ شہر لسانیت کے حوالے سے تین بڑی اکائیوں کی پہچان ہے، مہاجر، سندھی اور پٹھان۔ یہاں کے سندھی اور بلوچ ایک ہی بیانیہ رکھتے ہیں، اسی لیے وہ سیاسی اعتبار سے ایک ہیں۔ مہاجروں کی سوچ میں بڑی تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ وہ بھی سندھ کی تقسیم کے خلاف ہیں۔ وہ اس لیے کہ متحدہ قومی موومنٹ جوکل تک ان کی سب سے بڑی ترجمان تھی اب وہ نہیں رہی۔
بے شک متحدہ کراچی میں 80% نشستیں جیتے، مگر 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی نے ان سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ یہ الگ بات ہے کہ پی ٹی آئی والے بھی کراچی کو کچھ نہ دے سکے۔ یوں ہرحکومت میں کراچی عدم توجہی کا شکار رہا اور اندرونِ سندھ اس سے بھی زیادہ۔کراچی کا ووٹ مڈل کلاس ووٹ ہے مگر انتخابات کے دوران ہائی جیک کر لیا جاتا ہے اور سندھی ووٹ آج تک وڈیروں کے چنگل سے آزاد نہ ہوسکا۔ سندھیوں کو اب سمجھ آجانا چاہیے کہ وہ وڈیروں کو ووٹ دیتے ہیں اور اگر ایسا کوئی کہتا ہے کہ یہ وڈیروں کی حکومت ہے تو درست کہتا ہے۔ یہ وڈیرے جوکل ضیاء الحق کے ساتھ تھے، اس سے پہلے وہ جنرل ایوب کے ساتھ تھے، پھر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ تھے اور اب بھی وہ اسٹیبلشمنٹ کی اتحادی پیپلزپارٹی کے ساتھ ہیں۔
شہری سندھ اوردیہی سندھ کو ایک مصنوعی بیانیے پرچلایا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اس بات سے خوش ہے کہ کراچی کا بیانیہ ایسا ہی ہو جس کے ذریعے وہ سندھیوں کے ووٹ حاصل کرسکیں اور باقی ووٹ وڈیرے کا ہے اور وڈیرا ان کی پارٹی میں ہے اور اس وڈیرے کو اپنے حلقے میں کھلی آزادی ہے کہ وہ جس پر چاہے ایف آئی آرکٹوائے۔ آج بھی تھانے میں یہ روایت ہے کہ جوکوئی وڈیرے سے دشمنی مول لے گا تو اس کے تھانے بھی تبدیل ہوسکتے ہیں۔
شہری اور دیہی سندھ میں لاوا ہے جو پک رہا ہے۔ اس کو مصنوعی انداز میں روکا نہیں جا سکتا۔کراچی کے لوگوں کو لوکل باڈیز مضبوط نہیں ملیں۔ خواجہ آصف کی یہ بات بالکل درست ہے کہ پیپلز پارٹی کو پاور اٹھارہویں ترمیم کے باعث ملی، مگر وہ اس پاورکو نچلی سطح تک نہیں لا رہی ہے۔ توکیا اس میں قصور اٹھارہویں ترمیم کا ہے؟ مسلم لیگ (ن) بڑی تیزی سے جمہوری اقدارکو الوداع کہہ رہی ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ وہ وہی طریقہ کار اپنا رہی ہے جو طریقہ کار ان کا جنرل ضیاء کے دور میں تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب میں ان کا مقابلہ پی ٹی آئی سے ہے اور اپنے اقتدارکے تحفظ کے لیے وہ یہ روش اختیارکر رہے ہیں ۔
سندھ کے اندر اردو بولنے والے چاہے اپنے آپ کو سندھی کہیں یا مہاجر یہ ان کی مرضی مگر اٹھارہویں ترمیم میں ہی ان کے مفادات کا تحفظ ہے جو مجھے نظر آرہا ہے کیونکہ جتنی خود مختاری سندھ کو ملے گی، کراچی اتنا ہی آزاد اور خود مختار ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی کے لوگ اپنے ووٹ کی حفاظت کریں اور دیہی سندھ کے لوگ، مصنوعی ذہانت کے اس دور میں وڈیروںکے چنگل سے اپنے آپ کو آزاد کروائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اٹھارہویں ترمیم کراچی میں نے کی تھی کراچی کی کراچی کے کی سیاست کے ساتھ سے پہلے رہا ہے ہے اور اس بات اور اس رہی ہے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔