سانحہ گل پلازہ؛ ایک ہی خاندان کے 6 میں سے 4 افراد کی میتیں آج ورثا کے حوالے کی جائینگی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
کراچی:
سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے ایک ہی خاندان کے 6 افراد میں سے 4 افراد کی میتیں شناخت کے بعد آج بروز اتوار دوپہر ساڑھے بارہ بجے ایدھی سرد خانے سہراب گوٹھ سے ورثا کے حوالے کی جائینگی جنھیں ان کی رہائش گاہ ایدھی ایمبولینسوں کے ذریعے لیجائی جائینگی۔
ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں دہلی کالونی کے رہائشی ایک ہی خاندان کے 6 افراد شاپنگ کے لیے گل پلازہ آئے تھے جس میں 3 خواتین سمیت 4 افراد کی ڈی این اے سے شناخت کی گئی ۔
مزید پڑھیںسانحہ گل پلازہ کا مقدمہ نامعلوم افراد کیخلاف درج، غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل
4 میتوں میں 2 بہنیں اور ایک بھائی شامل ہے جس میں بھائی 32 سالہ محمد سعد ، 35 سالہ مصباح پروین اور 30 سالہ نمبرہ دختر عرفان جبکہ 14 سالہ مریم دختر نور احمد شامل ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق اسی متاثرہ خاندان کے خاتون سمیت 2 افراد کوثر پروین اور اشرف علی کی شناخت کا عمل ابھی باقی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ خاندان کے افراد کی
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔