data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سانحہ گل پلازہ کی عمارت کا90فیصد حصہ کلیئر کرلیا گیا ہے، 82افراد تاحال لاپتا‘ اب تک71لاشیں اور انسانی باقیات اسپتال پہنچائی گئیں‘10سے 11افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کاخدشہ ‘20لاشوں کی شناخت ہوگئی13کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ہوئی‘ماہرین نے آگ کو سانحہ بلدیہ ٹاؤن سے مماثل قرار دے کر منصوبہ بندی سے جلانے کاخدشہ ظاہر کردیا‘آگ کا 11منٹ میں پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لینا مشکوک قرار‘ سانحے کا مقدمہ تھانہ نبی بخش میں سرکار کی مدعیت میں درج، آتش زنی، قتل بالسبب اور مجرمانہ غفلت کے تحت سنگین دفعات شامل‘ کارروائی کا آغاز؛ مالکان اور انتظامیہ کی گرفتاری کا امکان۔جبکہ ہولناک سانحے کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس اور تکنیکی ٹیموں نے عمارت کے متاثرہ حصے سے ڈی وی آر (DVR) برآمد کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے تاکہ آگ لگنے کی اصل وجوہات اور حفاظتی اقدامات میں کوتاہی کا سراغ لگایا جا سکے۔ واقعے کے بعد کراچی میں ہنگامی سروے، 100 سے زائد عمارتوں کو نوٹس جاری‘ 3 دن کے اندر آگ سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات کرنے کے احکامات جاری ۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے مصروف ترین کاروباری علاقے میں واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے دلخراش حادثے کا مقدمہ تھانہ نبی بخش میں درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق ہولناک حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں حتمی مراحل میں داخل ہو گئی ہیں۔ گل پلازہ کی عمارت کو 90 فیصد تک کلیئر کر دیا گیا ہے۔ ملبہ ہٹانے اور متاثرہ حصوں کی تلاشی کا کام آخری مراحل میں ہے۔ تاہم، اب بھی 10 سے 11 افراد کے عمارت میں دبے ہونے یا لاپتا ہونے کا خدشہ ہے جن کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔ مجموعی طور پر لاپتا افراد کی فہرست میں 82 نام شامل ہیں، جن کے اہل خانہ شدید اضطراب کے عالم میں اپنوں کی واپسی یا اطلاع کے منتظر ہیں۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ طارق نے میڈیا کو بتایا کہ اب تک گل پلازہ سے مجموعی طور پر 71 لاشیں اور انسانی باقیات اسپتال لائی گئی ہیں۔ ڈاکٹر سمیعہ کا کہنا ہے کہ لاشیں بری طرح جل جانے کے باعث ناقابل شناخت ہیں۔ انسانی باقیات اور جھلسے ہوئے اجسام کی وجہ سے ڈی این اے کا عمل انتہائی پیچیدہ ہو گیا ہے۔ اب تک جاں بحق ہونے والے 71 افراد میں سے محض 20 لاشوں کی شناخت ہو سکی ہے۔ ان 20 میں سے 13 افراد کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ممکن ہوئی ہے۔واقعے کا مقدمہ تھانہ نبی بخش میں سرکار کی مدعیت میںنامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں غفلت، لاپرواہی اور مجرمانہ خاموشی جیسی سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ کیا عمارت میں آگ بجھانے کے آلات موجود تھے اور کیا ہنگامی اخراج کے راستے قواعد کے مطابق بنائے گئے تھے یا نہیں۔بھسم شدہ عمارت گل پلازہ میں ریسکیو 1122 کے کمانڈر حمیر واحد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ گل پلازہ میں ساری رات سرچ آپریشن جاری رہا، پلازہ کے ملبے سے کوئی لاش نہیں ملی ہے، رقم ودیگر اشیاء ملی ہیں۔کمانڈر ریسکیو نے کہا کہ ریسکیو آپریشن مکمل کرنے کیلئے حتمی وقت کا تعین کرنا قبل از وقت ہوگا، عمارت کے گرنے والے مقام سے بیسمنٹ پر جانا تاحال مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں سرچنگ مکمل کرلی اب وہاں لاشیں یا اعضا موجود نہیں ہے جبکہ سرچ آپریشن میں ملنے والی رقم اور قیمتی اشیا کو انتظامیہ کے حوالے کیا جارہا ہے،گل پلازہ کے متاثرہ حصے میں کولنگ کا عمل اور ملبہ ہٹانے کا کام تاحال جاری ہے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ماہرین کی ٹیمیں عمارت کے ڈھانچے کی مضبوطی کا بھی جائزہ لے رہی ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے کسی اور واقعے سے بچا جا سکے۔ تھانہ نبی بخش میں پولیس نے سرکار کی مدعیت میں ایف آئی آر نمبر 08/2026 درج کر لی ہے، جس میں عمارت کے مالکان اور انتظامیہ کی مبینہ غفلت کو ہلاکتوں کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی مختلف سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے،دفعہ 322 (قتل بالسبب) سانحے میں 71 قیمتی جانوں کے ضیاع پر یہ دفعہ شامل کی گئی ہے۔ اس کا اطلاق اس وقت ہوتا ہے جب غیر قانونی فعل یا غفلت کی وجہ سے کسی کی موت واقع ہو۔ اس دفعہ کے تحت ذمہ داران کو ‘دیت’ (خون بہا) کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔دفعہ 436 (آتش زنی و تباہی) عمارت کو آگ یا دھماکہ خیز مواد سے پہنچنے والے نقصان پر یہ دفعہ لگائی گئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پولیس واقعے کے پیچھے کسی ممکنہ سازش یا انتہائی درجے کی لاپرواہی کی تحقیقات کر رہی ہے۔دفعہ 337-H(i) (انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالنا) عمارت میں فائر سیفٹی آلات کی عدم موجودگی اور ہنگامی راستوں کے بند ہونے کے باعث انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے پر یہ دفعہ شامل کی گئی ہے۔دفعہ 427 (نقصانِ املاک) کروڑوں روپے مالیت کے تجارتی سامان اور املاک کی تباہی کو اس دفعہ کے تحت ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ایف آئی آر کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ 17 جنوری کی رات 10 بج کر 15 منٹ پر لگنے والی آگ محض ایک اتفاقی حادثہ معلوم نہیں ہوتی، بلکہ یہ بظاہر انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی اور حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی کا شاخسانہ ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمے میں “قتلِ عمد” کے بجائے “قتل بالسبب” کی دفعہ شامل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ فی الحال اسے مجرمانہ لاپرواہی (Criminal Negligence) کا کیس تصور کیا جا رہا ہے۔مقدمے میں فی الحال “نامعلوم افراد” کو نامزد کیا گیا ہے، تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، پلازہ انتظامیہ یا مالکان میں سے جس کی بھی کوتاہی ثابت ہوئی، اسے فوری گرفتار کیا جائے گا۔ تحقیقاتی ٹیمیں عمارت کے نقشے اور حفاظتی این او سی (NOC) کا بھی جائزہ لے رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق ایف ائی ار میں تاحال کسی ایک کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ،ایف ائی ار کاٹنے کے بعد سیل کر دیا گی ہے۔مزید برآں گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک سانحے کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس اور تکنیکی ٹیموں نے عمارت کے متاثرہ حصے سے ڈی وی آر (DVR) برآمد کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے تاکہ آگ لگنے کی اصل وجوہات اور حفاظتی اقدامات میں کوتاہی کا سراغ لگایا جا سکے۔ تکنیکی ٹیموں نے مختلف دکانوں کے ملبے سے مزید ڈی وی آرز حاصل کیں، جس کے بعد اب تک متاثرہ عمارت کے تقریباً 50 فیصد ڈی وی آرز برآمد کیے جا چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی رفتار اور شدت روایتی “شارٹ سرکٹ” کے واقعات سے میل نہیں کھاتی، بلکہ یہ 2012 کے خوفناک “سانحہ بلدیہ ٹاؤن” کی یاد تازہ کر رہی ہے۔ عام طور پر شارٹ سرکٹ کی صورت میں آگ دو چار دکانوں تک محدود رہتی ہے اور اس پر بروقت قابو پایا جا سکتا ہے۔ تاہم گل پلازہ کے کیس میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ ایک ہی وقت میں اتنی زیادہ دکانیں آگ کی لپیٹ میں کیسے آ گئیں، سی سی ٹی وی فوٹیج سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ آگ محض 11 منٹ میں پوری عمارت میں پھیل گئی۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اتنی تیزی سے آگ کا پھیلنا کسی کیمیکل یا آتش گیر مادے کی موجودگی کے بغیر ممکن نہیں۔گزشتہ روز ایک تکنیکی ماہر نے رائے دی تھی کہ آگ “سینٹرل اے سی” کے ڈکٹس (ائر کنڈیشننگ کے راستوں) کے ذریعے پھیلی۔ تاہم، تحقیقاتی ٹیم کے دیگر ارکان اور متاثرین نے اس نظریے کو ناقابل اطمینان قرار دے دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ڈکٹس کے ذریعے آگ پھیلنے کی ایک خاص حد ہوتی ہے، لیکن یہاں پوری عمارت کا بیک وقت جہنم بن جانا کسی بڑی سازش یا مجرمانہ غفلت کی نشاندہی کرتا ہے۔حکام نے جائے وقوعہ کے اطراف نصب کیمروں کی مدد سے ایک جامع ٹائم لائن تیار کی ہے، جو سانحے کی سنگینی کو واضح کرتی ہے کہ 10 بج کر7منٹ پر آگ پہلی بار گل پلازہ کے عقبی حصے میں نمودار ہوئی۔ 10:08 بجے عمارت سے دھواں اٹھتا ہوا واضح طور پر دیکھا گیا۔10:12 بجے آگ کے شعلے بلند ہوئے اور اسی وقت پہلی ایمبولینس جائے وقوعہ پر پہنچی۔10:18 بجے محض 11 منٹ کے اندر آگ عقبی حصے سے پھیلتی ہوئی ایم اے جناح روڈ کی فرنٹ سائیڈ تک پہنچ گئی۔10:19 بجے فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑیاں فوٹیج میں جائے وقوعہ کی طرف بڑھتی نظر آئیں۔12:45 بجے آگ لگنے کے تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد پہلی ہلاکت کی تصدیق ہوئی، جہاں بالائی منزل پر پھنسا شخص دم گھٹنے اور جھلسنے کے باعث جاں بحق ہوا۔تکنیکی ٹیمیں اب ان ڈکٹس اور متاثرہ پوائنٹس کا باریک بینی سے معائنہ کر رہی ہیں جہاں سے آگ کی شروعات ہوئی۔پولیس کو آگ کے شروعاتی مقام کی تلاش ہے، پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے ایک بچے کے ہمراہ عمارت کے مختلف مقامات کا معائنہ کیا۔تحقیقی ٹیم نے گل پلازہ میں پھولوں کی دکان کے مالک سے سوالات کیے، پھولوں کی دکان کے مالک کی مدد سے عمارت کے مختلف حصوں کو بھی چیک کیا گیا، دکان کے مالک کا آٹھ سے نو سال کا بیٹا بھی ہمراہ تھا، بچے کو بھی عمارت کے مختلف حصوں میں لے جایا گیا۔ ڈی وی آرز سے ملنے والی فوٹیج اور فورنزک رپورٹ ہی یہ واضح کرے گی کہ یہ محض ایک حادثہ تھا یا کراچی کی تاجر برادری کے خلاف کوئی بڑی واردات۔دوسری جانب گل پلازہ سانحے کے بعد کراچی میں ہنگامی سروے کے دوران یک ہی روز میں 100 سے زائد عمارتوں کو نوٹس جاری کردیا گیا ا ورخبردار کیا گیا 3 دن کے اندر آگ سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات کریں۔نوٹسز شاپنگ مالز، اسٹورز، رہائشی عمارتوں اور اسپتالوں کو جاری کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ عمارت میں آگ بجھانے کے انتظامات ناکافی یا غیر فعال ہیں۔آگ بجھانے والے آلات ،گیندوں کی فراہمی اور مناسب جگہ کا تعین کریں جبکہ راستوں، راہداریوں اورہنگامی راستوں سے آتش گیرموادکوہٹایا جائے اور یقینی بنائیں کہ ہنگامی راستے اورسیڑھیاں صاف، قابل رسائی اور فعال ہوں۔مناسب جگہوں پرہنگامی روشنی کی تنصیب، ہنگامی اشاریانسٹال کروائیں ساتھ ہی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تربیت یافتہ فائرفائٹرکوٹیم میں شامل کریں۔تعمیل کرنے میں ناکامی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور تکمیلی سرٹیفکیٹ کی منسوخی پرعمارت کو سیل ،ایف آئی آر درج کی جاسکتی ہے۔ایس بی سی اے کا کہنا تھا کہ سروے کا عمل وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات پر کیا گیا، ڈی جی ایس بی سی اے کی جانب سے سخت احکامات جاری کیے گئے، نوٹس جاری ہونے کے تین دن کے اندر تعمیل لازمی ہے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تھانہ نبی بخش میں حفاظتی اقدامات کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں ایف ا ئی ا ر اور حفاظتی پولیس اور پلازہ کے کی شناخت ڈی وی ا ر عمارت کے کے ذریعے عمارت کو کے مطابق ا گ لگنے ہے دفعہ کیا گیا کے اندر نے والے ہے کہ ا کیا جا کر دیا دیا ہے گیا ہے کے تحت کے بعد کا عمل

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔

نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔

 وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد