ابوظہبی میں روس‘ یوکرین اور امریکا کے مذاکرات کا دوسرا روز
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی‘ ابوظہبی(مانیٹر نگ ڈ یسک ) متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان جاری اعلیٰ سطحی مذاکرات دوسرے روز میں داخل ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران تینوں ممالک کے اعلیٰ مندوبین ایک ممکنہ امن منصوبے اور سیاسی حل کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات براہِ راست نوعیت کے ہیں، جن کا مقصد یوکرین تنازع میں کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کے امکانات اور مستقبل کے سفارتی فریم ورک پر پیش رفت حاصل کرنا ہے۔یو اے ای ان مذاکرات میں میزبان اور سہولت کار کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے، جسے عالمی سفارتی حلقوں میں غیر جانبدار اور قابل اعتماد مقام سمجھا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق مذاکرات میں انسانی بحران، علاقائی سلامتی، قیدیوں کے تبادلے اور ممکنہ سیاسی روڈ میپ جیسے نکات زیرِ غور آئے۔فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مکالمے کا تسلسل ہی پائیدار حل کی طرف واحد راستہ ہے، تاہم کسی حتمی اعلان یا معاہدے کا فوری امکان ظاہر نہیں کیا گیا۔پاکستانی قارئین کے لیے اس خبر کی اہمیت اس تناظر میں ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان یہ سفارتی عمل مشرقِ وسطیٰ میں ہو رہا ہے، جہاں پاکستان کے بھی مضبوط سفارتی، معاشی اور عوامی روابط موجود ہیں۔بین الاقوامی امن کی ایسی کوششیں عالمی سیاسی ماحول پر اثر انداز ہوتی ہیں، جس کے اثرات جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا میں محسوس کیے جاتے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کسی مثبت پیش رفت کی طرف بڑھتے ہیں تو یہ نہ صرف یوکرین بحران بلکہ عالمی سلامتی اور معاشی استحکام کیلیے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں اور متحدہ عرب امارات کی سفارتی حیثیت مزید مستحکم ہو گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :