data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) عالمی اقتصادی فورم (World Economic Forum; WEF) کے سالانہ اجلاس 2026، منعقدہ ڈیووس(Davos) کےموقع پر، سنجینٹا گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، جیف رَو (Jeff Rowe) نے پاکستان کے وزیرِ خزانہ، سینیٹر محمد اورنگزیب سے بالمشافہ ملاقات کی اور اُن کے ساتھ پاکستان کی زرعی ترجیحات اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع پر تبادلۂ خیال کیا۔

اعلیٰ سطح کی اس ملاقات نے پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کو ایک کلیدی شراکت دار اور جدت و سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر اجاگر کیا۔ گفتگو کے دوران پاکستان کے زرعی منظرنامے، شعبے کو درپیش چیلنجوں، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اورپائیداری کو فروغ دینے کے مواقع پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ جناب رَو (Rowe)نے ٹیکنالوجی، جدت اور تکنیکی مہارت کے ذریعے پاکستان کی معاونت کے لیے سنجینٹا کے عزم کا اعادہ کیا جو زرعی ترقی کے لیے پاکستان کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔

ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے جناب رَو (Rowe) کو اُن کی آئندہ علاقائی مصروفیات کے دوران پاکستان کے دورے کی دعوت دی جو ملک کے زرعی نظام کو مضبوط بنانے میں نجی شعبے کے کردار کی مسلسل اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ گفتگو میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان سنجینٹا کی عالمی قیادت کے لیے ایک ترجیحی منڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور بین الاقوامی پلیٹ فارموں اور فورموں پر مسلسل رابطہ اور تعاون جاری رہے گا۔

گروپ کی عالمی قیادت کی ٹیم کے لیےسنجینٹا پاکستان توجہ کا مرکز رہا ہے جس سے سنجینٹا کی طویل مدتی حکمتِ عملی اور سرمایہ کاری کے حوالے سے اس کی مسلسل ترجیحات میں پاکستان کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ سنجینٹا سنہ 1956ء سے پاکستان میں فصلوں کے تحفظ کی مارکیٹ میں ایک نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ کراچی میں اس کی پیداواری سہولت موجودہے، اور یہ جدت اور کسانوں کو مرکزیت دینے والے حل کے ذریعے اپنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دیتا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ، گزشتہ ہفتے برلن،جرمنی، میں منعقد ہونے والے عالمی فورم برائے خوراک و زراعت ((Global Forum for Food & Agriculture; GFFA 2026کے موقع پر،سنجینٹا گروپ کی ایگزیکٹو نائب صدر برائے پائیداری، کارپوریٹ افیئر اینڈ ٹرانسفارمیشن، محترمہ الیگزینڈرا برانڈ(Alexandra Brand) نے پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، جناب رانا تنویر حسین سے ملاقات کی۔ سنجینٹا کے وفد میں چیف سسٹین ایبلٹی آفیسر، محترمہ پیٹرا لاکس(Petra Laux) اور جرمنی میں سرکاری اُمور کی سربراہ محترمہ الینا گمپرٹ (Alina Gumpert) بھی شامل تھیں، جبکہ پاکستانی وزیر کے ہمراہ پاکستان کی سفیر برائے جرمنی، عزت مآب ثقلین سیدہ موجود تھیں۔

عالمی فورم برائے خوراک و زراعت کے موقع پر ہونے والی گفتگو میں پاکستان کے زرعی شعبے میں سنجینٹا کے مسلسل کردار اور ایگری ویلیو چین کے مختلف مراحل میں تعاون کو وسعت دینے کے مواقع پر توجہ مرکوز کی گئی۔ وفاقی وزیر نے مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی، جبکہ محترمہ برانڈ نے پاکستان کو ایک اہم کاروباری مرکز کے طور پر اس کی اہمیت کو دوہراتے ہوئے کسانوں کی تربیت، حیاتیاتی سلوشنز اور زرعی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں ممکنہ عوامی و نجی شراکت داریوں کو اجاگر کیا۔

سنجینٹا کی عالمی قیادت کی ٹیم کے لیے اعلیٰ سطح کی یہ ملاقاتیں پاکستان میں کنٹری جنرل مینیجر، ذیشان بیگ اور کنٹری ہیڈ برائے کارپوریٹ افیئرز و سسٹین ایبلٹی،سید علی مرتضیٰ پر مشتمل سنجینٹا کی مقامی ٹیم نے اکتوبر 2025 میں حکومتِ پنجاب کی وزارتِ زراعت اور سنجینٹا گروپ کی چین کے درمیان ہونے والے کامیاب مکالمے کے تسلسل کے طور پر منظم کیں تھیں۔

سنجینٹا کی عالمی قیادت کی ٹیم کے لیے اعلیٰ سطح کی یہ ملاقاتیں پاکستان میں سنجینٹا پاکستان کی ٹیم کی کوششوں کا نتیجہ تھیں جس میں کنٹری جنرل مینیجر، ذیشان بیگ اور کنٹری ہیڈ برائے کارپوریٹ افیئرز و سسٹین ایبلٹی،سید علی مرتضیٰ شامل تھے۔ اکتوبر،2025ء میں وزارتِ زراعت ،حکومتِ پنجاب اور سنجینٹا گروپ کی چین کے درمیان ہونے والے کامیاب مکالمے بھی ان ہی ملاقاتوں کا تسلسل تھیں۔

سنجینٹا گروپ زرعی جدت میں ایک عالمی رہنما ہے، فصلوں کے تحفظ کے حوالے سے دنیا کی نمبر ایک کمپنی اور بیجوں کے شعبے میں تیسری بڑی کمپنی ہے، جو 90 سے زائد ممالک میں کام کر رہی ہے اور دنیا بھر میں پائیدار زراعت کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سنجینٹا گروپ کی کی عالمی قیادت پاکستان میں پاکستان کی پاکستان کے نے پاکستان سنجینٹا کی کی ٹیم کے لیے

پڑھیں:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔

کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔

کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔

سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔

کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ