سندھ ہیلپ ڈیسک نے 82 لاپتا افراد کی فہرست جاری کر دی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر )کراچی کے تجارتی مرکز گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک حادثے کے بعد اپنوں کی تلاش میں سرگرداں خاندانوں کی سہولت کے لیے سندھ ہیلپ ڈیسک نے ایک جامع اور اپ ڈیٹڈ لسٹ جاری کر دی ہے۔ اس فہرست میں ان 82 افراد کے نام شامل ہیں جو واقعے کے بعد سے تاحال لاپتا ہیں اور جن کے بارے میں تاحال کوئی حتمی اطلاع موصول نہیں ہو سکی۔سندھ ہیلپ ڈیسک کی جانب سے جاری کردہ اس فہرست کو انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں ترتیب دیا گیا ہے تاکہ شناخت کے عمل میں آسانی ہو سکے۔ فہرست میں درج ذیل معلومات شامل ہیں، لاپتا افراد کے نام اور عمریں۔گھر کے پتے اور دکان نمبر جہاں وہ کام کرتے یا موجود تھے۔ شناخت کے لیے لاپتا افراد کی تصاویر اور شناختی کارڈز (CNIC) کی نقول کے ساتھ فہرست جاری کر دی گئی ، لاپتا افراد میں 11 سال کے بچوں سے لے کر 70 سال کے بزرگ مرد و خواتین شامل ہیں۔ بچوں میں 11 سالہ انس عمران، 11 سالہ اشعر، 11 سالہ علی بن عمر، 12 سالہ حمزہ ولد سرفراز اور 13 سالہ ایم حیدر علی شامل ہیں۔خواتین میں 52 سالہ کوثر پروین، 45 سالہ محترمہ صائمہ، 40 سالہ راحیلہ تبسم، 30 سالہ شائستہ جبین، 27 سالہ نمرہ عرفان اور 22 سالہ کائنات سمیت دیگر خواتین کے نام فہرست میں درج ہیں۔جبکہ بزرگوں میں 70 سالہ عبدالباقی، 69 سالہ غفران احمد اور 60 سالہ ایم حنیف بھی لاپتا افراد میں شامل ہیں۔ اسی طرح فہرست کے مطابق 44سالہ عمر نبیل سٹو شاہد علی، 36سالہ عوشہ سمیع عمر نبیل،11سالہ علی بن عمر،15سالہ سفیان،18سالہ عبداللہ،45سالہ تنویر احمد،26سالہ چار لی ،(Chrehill)،22سالہ کائنات،40سالہ راحیلہ تبسم،30سالہ شائستہ جبین،11سالہ انس عمران،20سالہ محمد شیث ،30سالہ محمد نوید پنجوانی،43سالہ آفتاب ولد محمد،28سالہ عدنان ولد ایم حنیف،32سالہ محمد کامران ولد ایم حنیف،69سالہ غفران احمد ولد ایم احمد،43سالہ اسلام الحق ولد احترام الحق قریشی، ایم اشرف، ایم سعد،32سالہ مصباح عرفان،27 سالہ نمرہ عرفان،15سالہ مریم نور،25سالہ شیراز ولد رمضان علی،ایم فہد ولد اشرف حسین،60سالہ چوہدری رمضان علی،13 سالہ ایم حیدر علی ولد ایم خالد علی،29سالہ ایم خضر علی ولد ایم خالد علی،19سالہ آصف خان،17سالہ سمن ولد عبدالرحمن،32سالہ آسام ولد افضل،20سالہ عثمان ولد گل فیض،46سالہ ایم رمضان ولد اللہ بخش،45سالہ شیخ سلمان،17سالہ سلمان،12سالہ حمزہ ولد سرفراز،28سالہ صداقت اللہ،11سالہ اشعر،24سالہ نعمت،22سالہ صداقت،15سالہ ایم یوسف ولد امیر،15سالہ یاسین ولد امیر،16سالہ عبداللہ،55سالہ ایم علی گھانچی،45سالہ سرفراز،40سالہ آصف،40سالہ فیصل،32سالہ سعد،28سالہ ایم عارف ولد حمید،16سالہ ایم فیضان ولد رشید،26سالہ عبدالقیوم،43سالہ آصف خان،60سالہ ایم حنیف،37سالہ آصف عطاری،27سالہ عمران ولد ابراہیم،42سالہ ایم اشرف،30سالہ سعد عرفان، 52سالہ کوثر پروین،17سالہ یاسین سرور،45سالہ سلیم عثمان،35سالہ آصف مجید،20سالہ ابرار اکرم،25سالہ ایم بلال،20سالہ عبدالحسیب،35سالہ آفتاب محمد،24سالہ عثمان گلفیز،30سالہ نوید جمعہ،40سالہ موشین آدم شکاری۔21سالہ ایم عارف ولد ایم رفیق،48سالہ ایم رفیق ولد انور علی،34سالہ شیراز ولد اقبال،28سالہ سعد سعید، عاصم ایس/او ایم افضل،حمزہ سرفراز،ابو بکر ولد بابو الطاف،17سالہ محمد حسیم،70سالہ عبدالباقی،43سالہ عاصم سعید،40سالہ رضوان،45سالہ محترمہ صائمہ، جیسے کئی خاندانوں کے کفیل تاحال لاپتا ہیں۔ فہرست میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے جن کے لیے بھی ورثاء سرد خانوں اور اسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔سندھ ہیلپ ڈیسک کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فہرست عوامی مقامات اور اسپتالوں میں آویزاں کر دی گئی ہے تاکہ اگر کسی شہری کو ان میں سے کسی بھی شخص کے بارے میں کوئی اطلاع ملے تو وہ فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کر سکے۔ ریسکیو ٹیمیں اور ڈی این اے ماہرین بھی اس فہرست کی مدد سے باقیات کی شناخت کے عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ ہیلپ ڈیسک لاپتا افراد فہرست میں شامل ہیں سالہ ایم ایم حنیف ولد ایم
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔