Jasarat News:
2026-06-02@22:05:48 GMT

سندھ ہیلپ ڈیسک نے 82 لاپتا افراد کی فہرست جاری کر دی

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی ( اسٹاف رپورٹر )کراچی کے تجارتی مرکز گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک حادثے کے بعد اپنوں کی تلاش میں سرگرداں خاندانوں کی سہولت کے لیے سندھ ہیلپ ڈیسک نے ایک جامع اور اپ ڈیٹڈ لسٹ جاری کر دی ہے۔ اس فہرست میں ان 82 افراد کے نام شامل ہیں جو واقعے کے بعد سے تاحال لاپتا ہیں اور جن کے بارے میں تاحال کوئی حتمی اطلاع موصول نہیں ہو سکی۔سندھ ہیلپ ڈیسک کی جانب سے جاری کردہ اس فہرست کو انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں ترتیب دیا گیا ہے تاکہ شناخت کے عمل میں آسانی ہو سکے۔ فہرست میں درج ذیل معلومات شامل ہیں، لاپتا افراد کے نام اور عمریں۔گھر کے پتے اور دکان نمبر جہاں وہ کام کرتے یا موجود تھے۔ شناخت کے لیے لاپتا افراد کی تصاویر اور شناختی کارڈز (CNIC) کی نقول کے ساتھ فہرست جاری کر دی گئی ، لاپتا افراد میں 11 سال کے بچوں سے لے کر 70 سال کے بزرگ مرد و خواتین شامل ہیں۔ بچوں میں 11 سالہ انس عمران، 11 سالہ اشعر، 11 سالہ علی بن عمر، 12 سالہ حمزہ ولد سرفراز اور 13 سالہ ایم حیدر علی شامل ہیں۔خواتین میں 52 سالہ کوثر پروین، 45 سالہ محترمہ صائمہ، 40 سالہ راحیلہ تبسم، 30 سالہ شائستہ جبین، 27 سالہ نمرہ عرفان اور 22 سالہ کائنات سمیت دیگر خواتین کے نام فہرست میں درج ہیں۔جبکہ بزرگوں میں 70 سالہ عبدالباقی، 69 سالہ غفران احمد اور 60 سالہ ایم حنیف بھی لاپتا افراد میں شامل ہیں۔ اسی طرح فہرست کے مطابق 44سالہ عمر نبیل سٹو شاہد علی، 36سالہ عوشہ سمیع عمر نبیل،11سالہ علی بن عمر،15سالہ سفیان،18سالہ عبداللہ،45سالہ تنویر احمد،26سالہ چار لی ،(Chrehill)،22سالہ کائنات،40سالہ راحیلہ تبسم،30سالہ شائستہ جبین،11سالہ انس عمران،20سالہ محمد شیث ،30سالہ محمد نوید پنجوانی،43سالہ آفتاب ولد محمد،28سالہ عدنان ولد ایم حنیف،32سالہ محمد کامران ولد ایم حنیف،69سالہ غفران احمد ولد ایم احمد،43سالہ اسلام الحق ولد احترام الحق قریشی، ایم اشرف، ایم سعد،32سالہ مصباح عرفان،27 سالہ نمرہ عرفان،15سالہ مریم نور،25سالہ شیراز ولد رمضان علی،ایم فہد ولد اشرف حسین،60سالہ چوہدری رمضان علی،13 سالہ ایم حیدر علی ولد ایم خالد علی،29سالہ ایم خضر علی ولد ایم خالد علی،19سالہ آصف خان،17سالہ سمن ولد عبدالرحمن،32سالہ آسام ولد افضل،20سالہ عثمان ولد گل فیض،46سالہ ایم رمضان ولد اللہ بخش،45سالہ شیخ سلمان،17سالہ سلمان،12سالہ حمزہ ولد سرفراز،28سالہ صداقت اللہ،11سالہ اشعر،24سالہ نعمت،22سالہ صداقت،15سالہ ایم یوسف ولد امیر،15سالہ یاسین ولد امیر،16سالہ عبداللہ،55سالہ ایم علی گھانچی،45سالہ سرفراز،40سالہ آصف،40سالہ فیصل،32سالہ سعد،28سالہ ایم عارف ولد حمید،16سالہ ایم فیضان ولد رشید،26سالہ عبدالقیوم،43سالہ آصف خان،60سالہ ایم حنیف،37سالہ آصف عطاری،27سالہ عمران ولد ابراہیم،42سالہ ایم اشرف،30سالہ سعد عرفان، 52سالہ کوثر پروین،17سالہ یاسین سرور،45سالہ سلیم عثمان،35سالہ آصف مجید،20سالہ ابرار اکرم،25سالہ ایم بلال،20سالہ عبدالحسیب،35سالہ آفتاب محمد،24سالہ عثمان گلفیز،30سالہ نوید جمعہ،40سالہ موشین آدم شکاری۔21سالہ ایم عارف ولد ایم رفیق،48سالہ ایم رفیق ولد انور علی،34سالہ شیراز ولد اقبال،28سالہ سعد سعید، عاصم ایس/او ایم افضل،حمزہ سرفراز،ابو بکر ولد بابو الطاف،17سالہ محمد حسیم،70سالہ عبدالباقی،43سالہ عاصم سعید،40سالہ رضوان،45سالہ محترمہ صائمہ، جیسے کئی خاندانوں کے کفیل تاحال لاپتا ہیں۔ فہرست میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے جن کے لیے بھی ورثاء سرد خانوں اور اسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔سندھ ہیلپ ڈیسک کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فہرست عوامی مقامات اور اسپتالوں میں آویزاں کر دی گئی ہے تاکہ اگر کسی شہری کو ان میں سے کسی بھی شخص کے بارے میں کوئی اطلاع ملے تو وہ فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کر سکے۔ ریسکیو ٹیمیں اور ڈی این اے ماہرین بھی اس فہرست کی مدد سے باقیات کی شناخت کے عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ ہیلپ ڈیسک لاپتا افراد فہرست میں شامل ہیں سالہ ایم ایم حنیف ولد ایم

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد